ایرانی سپریم لیڈر منظر عام پر آگئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)ایران میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات اور ممکنہ امریکی حملے سے متعلق قیاس آرائیوں کے دوران ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ایک بار پھر عوام کے سامنے آئے ہیں،انہوں نے اسلامی انقلاب کی سینتالیسویں سالگرہ کی تقریبات کے آغاز پر بانیِ انقلاب آیت اللہ روح اللہ خمینی کے مزار پر حاضری دی اور دعا کی۔
آیت اللہ خامنہ ای کے سرکاری ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا گیا کہ آج آیت اللہ خامنہ ای کی موجودگی میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کی سینتالیسویں سالگرہ کی تقریبات کا آغاز کیا جا رہا ہے،یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے مختلف شہروں میں احتجاجی سرگرمیاں جاری ہیں اور خطے میں کشیدگی بڑھنے کے باعث عالمی سطح پر ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر بات ہو رہی ہے۔
On the eve of the 47th anniversary of the victory of the Islamic Revolution, Imam Khamenei visited the mausoleum of Imam Khomeini (ra) this morning, Jan. 31, 2026. pic.twitter.com/JYhdrzgjbu
— Khamenei.ir (@khamenei_ir) January 31, 2026
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے ان حالات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا، اسرائیل اور یورپی رہنماؤں نے ایران کے معاشی مسائل کا فائدہ اٹھایا، بدامنی کو ہوا دی اور عوام کو احتجاجی مظاہروں کی طرف دھکیلا،دوسری جانب ایرانی قیادت کے اندر سے سفارت کاری کے اشارے بھی دیے جا رہے ہیں، سپریم لیڈر کے مشیر علی لاریجانی نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ بات چیت کے ایک فریم ورک پر کام جاری ہے۔
ان کے مطابق مصنوعی میڈیا کے ذریعے جنگ کا ماحول بنایا جا رہا ہے، تاہم اس کے برعکس پس پردہ مذاکرات کے ڈھانچے کی تشکیل کا عمل آگے بڑھ رہا ہے،اسی دوران ایران کے آرمی چیف امیر حاتمی نے امریکا اور اسرائیل کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جوہری سائنس اور ٹیکنالوجی کو ختم نہیں کیا جا سکتا،ان کا کہنا تھا کہ چاہے قوم کے سائنس دان اور فرزند شہید ہی کیوں نہ ہو جائیں، ایران کی جوہری صلاحیت برقرار رہے گی۔