بھارت نے سلال ڈیم سے پھرپانی چھوڑ دیا، فلڈ الرٹ جاری

Aug 01, 2026 | 10:16:AM
 بھارت نے سلال ڈیم سے پھرپانی چھوڑ دیا، فلڈ الرٹ جاری
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(زبیر احمد کلوار)بھارت کی جانب سے مسلسل گیارہویں مرتبہ سلال ڈیم سے پانی چھوڑنے کے بعد پاکستان میں فلڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ۔
ذرائع کے مطابق بھارت سے تقریباً 90 ہزار کیوسک پانی کا ریلہ پاکستان پہنچنے کا امکان ہے۔
ملک کے بیشتردریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کےمطابق ہے،تاہم دریائے سندھ کے مختلف مقامات پر نچلے اوردرمیانے درجے کے سیلاب کی صورتحال برقرار ہے،جبکہ تربیلا اور منگلا ڈیم میں بھی پانی کی سطح میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔دریائےسندھ میں سکھر بیراج پردرمیانے درجےکا سیلاب برقرار ہےجبکہ کالا باغ،چشمہ اورگڈو بیراج پر نچلے درجےکی سیلابی صورتحال موجود ہے،دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر بھی نچلے درجےکا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔
 دریائےجہلم،چناب،ستلج، راوی اورکابل کےبیشتر اہم مقامات پرپانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے،چاچڑان شریف اوربےنظیرپل کےمقام پرپانی کےبہاؤمیں کمی ریکارڈ کی گئی ہے ،تربیلاڈیم میں پانی کی سطح بڑھ کر 1,539 فٹ تک پہنچ گئی اورڈیم 89 فیصد بھر چکا ہے،جو گزشتہ سال کےبرابر ہے،منگلا ڈیم میں پانی کی سطح 1,196 فٹ سے تجاوز کر گئی ہےاور ڈیم 57 فیصد بھر چکا ہے۔
متعلقہ اداروں نےدریاؤں اورنشیبی علاقوں کی صورتحال پر کڑی نظر رکھتے ہوئے ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:شہریوں نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں معمولی کمی کومستردکردیا
دوسری طرف کنٹرول روم کے مطابق دریائے سندھ میں گڈو بیراج کے مقام پر پانی کی سطح مزيد کم ہونے لگی ہے اور صورتحال نارمل ہونے لگی ہے،دریائے سندھ  میںگڈو بیراج کے مقام پر نچلے درجے کے سیلاب کی صورتحال ہے، وہاں پانی کی آمد 3 لاکھ 36 ہزار 138 کیوسک جبکہ اخراج 2 لاکھ 99 ہزار 209 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
 گڈو بیراج کنٹرول روم کے مطابق دریائے سندھ میں گڈو بیراج کے مقام پر 24 گھنٹوں میں 89 ہزار 965 کیوسک کمی واقع ہوئی ہے اور48 گھنٹوں تک گڈو بیراج پر نارمل صورتحال ہوجائے گی۔

ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق پنجاب کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے،دریائے چناب، جہلم، راوی اور ستلج میں پانی کا بہاؤنارمل سطح پر ہے،دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے،ڈیرہ غازی خان رودکوہیوں میں پانی کا بہاؤ نارمل ہے جبکہ کالا باغ میں 3 لاکھ 20 ہزار اور چشمہ میں پانی کا بہاؤ2 لاکھ 74 ہزار ہے۔

ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق وزیر آباد ناکہ پلکھو میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کا بہاؤ 3500 کیوسک ہے،نارروال نالہ بسنتر اور نالہ بئین میں نچلے درجے کا سیلاب ہے،مون سون بارشوں کا چوتھا سلسلہ 5 اگست تک جاری رہنے کی پیشگوئی ہے۔

 ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب سیف انور جپہ کاکہناہے کہ بالائی کیچمنٹس میں متوقع بارشوں کے باعث مشرقی دریاؤں اور ان سے ملحقہ نالوں کے بہاؤ میں اضافے کا خدشہ ہے،لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، فیصل آباد اور ملتان میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے،مری گلیات اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے، دریاؤں کے پاٹ میں موجود شہری فوری محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں،حکومت پنجاب کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دئیے گئے ہیں جہاں تمام تر بنیادی سہولیات اور ادویات فراہم کی جائیں گی،شہریوں سے گزارش ہے کہ موسم و سیلاب کی صورتحال کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں،دریاؤں ،نہروں اور ندی نالوں کے اطراف سیرو تفریح سے گریز کریں،بچوں کا خاص خیال رکھیں، انہیں دریاؤں اورندی نالوں میں ہرگز نہ نہانے دیں۔