ایف بی آر کا مارچ ہدف پورا نہ ہونے کا امکان، 200 ارب تک کمی متوقع
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو مارچ کا ٹیکس ہدف پورا کرنے میں 200 ارب روپے تک کی کمی کا خدشہ ہے، مارچ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ،معاشی سرگرمیاں سست روی کا شکار ہوئیں۔
تفصیلات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو مارچ 2026 کے لیے مقررہ ٹیکس ہدف کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جہاں محصولات میں 150 سے 200 ارب روپے تک کی بڑی کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث معاشی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں، جس کے نتیجے میں تقریباً 150 ارب روپے کم ٹیکس اکٹھا ہونے کی توقع ہے۔
اس کے علاوہ، مارچ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے بھی معاشی پہیے کی رفتار سست کر دی ہے، جس کا براہِ راست اثر ٹیکس وصولیوں پر پڑا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:محسن نقوی کی غیر قانونی طور پر پاکستانی شہریت حاصل کرنے والوں کو فوری نادرا سے نکالنے کی ہدایت
دستاویزات میں بتایا گیا جولائی سے فروری تک ایف بی آر کی مجموعی ٹیکس وصولی 8121 ارب روپے رہی، تاہم مارچ میں برآمد کنندگان کو 60 ارب روپے سے زائد کے ریفنڈز جاری کیے گئے ہیں، جس نے محصولات پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے۔
خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جولائی سے مارچ کے دوران مجموعی شارٹ فال 600 ارب روپے سے تجاوز کر سکتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر نے موجودہ معاشی حالات کے پیشِ نظر آئی ایم ایف سے ٹیکس ہدف میں کمی کی درخواست کی تھی تاہم عالمی مالیاتی ادارے نے تاحال اس درخواست کو منظور نہیں کیا ہے۔
ہدف پورا نہ ہونے کی صورت میں حکومت پر اضافی ٹیکس اقدامات یا منی بجٹ کے لیے دباؤ بڑھ سکتا ہے۔