بانی تحریک انصاف 9 مئی کے حملوں پرمعافی مانگنے کے لیے تیار ہیں،احمد اویس
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) پی ٹی آئی کے رہنما نے انکشاف کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی معافی مانگنے کے لئے تیار ہیں لیکن نواز شریف اور شہباز شریف کو بھی سپریم کورٹ پر ھملے کی معافی مانگنا پڑے گی۔
پروگرام گونج مسعود رضا کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما احمد اویس نے کہا کہاحمد اویس نے کہا بانی تحریک انصاف معافی مانگنے کے لیے تیار ہیں لیکن اس سے پہلے میاں نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف کو سپریم کورٹ پر حملے کی معافی مانگنی پڑے گی۔
احمد اویس نے دعویٰ کیا کہ آج جو میاں نواز شریف کے حق میں این اے 130لاہور کا جو فیصلہ آیا ہے وہ میرٹ پر نہیں آیا صرف ٹیکنیکل گراونڈ پر آیا ہے نواز شریف کی نواز شریف کی جیت الیکشن کمیشن کی مرہون منت ہے جس وقت ہم ٹریبیونل میں گئے تھے الیکشن کمیشن نے خود کہا تھا کہ ووٹ کی گنتی میں فرق ہے اور اس کو دیکھا جائے گا اس کے بعد یہ فیصلہ آیا ہے ایسی جیت پر نواز شریف کو خود استعفیٰ دے دینا چاہیے۔احمد اویس نے مذاکرات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں شرائط نہیں ہونی چاہیے مشروط مذاکرات کی بات کریں تو بات نہیں بن سکتی۔انہوں نے کہا کہ بانی تحریک انصاف معافی مانگنے کے لیے تیار ہیں لیکن اس سے پہلے نواز شریف اور شہباز شریف کو سپریم کورٹ پر حملے کی معافی مانگنی پڑے گی۔
پروگرام میں شریک پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما شمائلہ رانا نے کہا کہ نواز شریف کی جیتی ہوئی سیٹ تھی ان کے پاس کچھ تھا ہی نہیں جو یہ دکھاتے ۔ ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ ن کوشاندار فتح نصیب ہوئی ہے اور یہاں تک کے خیبر پختونخوا میں گھر میں گھس کر مسلم لیگ ن نے ہری پور کا الیکشن بھی جیتا۔9 مئی کرنے والوں کو شرم آنی چاہیے اس کے باوجود جو لوگ اقتدار میں ہیں ان لوگوں نے ہی مذاکرات کی دعوت دی ہے
سیاسی لوگوں کے اندر ذاتی عناد نہیں ہوتا حکومت ملک کے مفاد میں مذاکرات کی طرف آنا چاہتی ہےمذاکرات کے لیے سب کو دو قدم پیچھے ہٹنا پڑے گا اور تحریک انصاف کے پاس تو غلطی کی گنجائش بھی نہیں ہے ۔
پروگرام میں شامل پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما حسن مرتضیٰ نے کہا کہ نواز شریف کی سیٹ کا فیصلہ میرٹ پر نہیں ہوا ٹیکنیکل گراونڈ پر ہوا ہے۔ پاکستان میں چند خاندان اس ملک کے وسائل پر قابض ہےمعیشت میں بہتری کے دعوے کرنے والوں کو کیایہ نہیں دکھتا کہ سال 2025 میں کاشکاروں کا کتنا برا حال ہوا ہے آلو اور مٹر کی فصل لگانے والے رل گئے ہیں مہنگائی اگر کم ہوئی ہے توکسان کو ڈی اے پی کی بوری 17000 کی کیوں مل رہی ہے جب کی پڑوسی ملک میں وہ ہی بوری 3000 کی ہے حسن مرتضی ٰ نے کہا کہ لاہور میں اب بھی کھربوں روپے کا بجٹ ہےجبکہ میرے حلقے میں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہو رہاان کو پتا ہونا چاہیے کہ دیہات میں ترقی ہوتی ہے تو شہروں میں ترقی ہوتی ہے۔ حسن مرتضی ٰ نے مزید کہا کہ تحریک انصاف 2024 کے الیکشن پر بات کرتی ہے الیکشن پر بات کرنی ہے تو 2018 سے شروع کی جائےپھر 9 مئی پر بھی بات کی جائے پھر 26 نومبر پر بات کی جائے پھر اس پر بھی بات کی جائے کہ جو 126 دن کا دھرنا تھا وہ ملک کی محبت میں تھا یا اقتدار کے لیے تھا۔سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت ہونی چاہیے سیاست دان جب مل کر بیٹھتے ہیں تو ہی مسائل کا حل نکلتا ہے ۔