فوجی عدالتوں میں سویلینزکے ٹرائل ؛سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے نظرثانی درخواست دائر کر دی

May 30, 2025 | 19:29:PM
فوجی عدالتوں میں سویلینزکے ٹرائل ؛سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے نظرثانی درخواست دائر کر دی
کیپشن: جواد ایس خواجہ، فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(امانت گشکوری)فوجی عدالتوں میں سویلینزکے ٹرائل کی اجازت دینے کے معاملے پر سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے فیصلے پر نظرثانی درخواست دائر کر دی،جواد ایس خواجہ نے آئینی بنچ سے فوجی عدالتوں کے کیس کا فیصلہ واپس لینے کی استدعا  کردی۔

نظرثانی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے حقائق اور قانون کا درست جائزہ نہیں لیا،فیصلے میں غلطی کی نشاندہی ہو جائے تو تصحیح کرنا عدالت کی ذمہ داری ہے،عدالت کا فیصلے میں ایف بی علی کیس پر انحصار درست نہیں۔ 

یہ بھی پڑھیں:مخصوص نشستیں نظرثانی کیس؛پی ٹی آئی کیلئے نئے مشکل کھڑی، الیکشن کمیشن اور پیپلزپارٹی نے اہم سوالات اٹھا دیئے

درخواست میں مزید کہا گیاہے کہ ایف بی علی کیس کا فیصلہ 1962 کے آئین کے مطابق تھا جس کا اب وجود نہیں،21ویں ترمیم میں فوجی عدالتیں آئینی ترمیم کے نتیجے میں قائم کی گئی تھیں،موجودہ کیس میں آئینی ترمیم نہیں ہوئی تو اس فیصلے پر انحصار بھی درست نہیں۔ 

نظرثانی درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ تضادات کا مجموعہ ہے،آئینی بنچ نے ایک جانب قرار دیا کہ فوجی عدالتوں میں بنیادی حقوق کا تحفظ ہوتا ہے،دوسری جانب لکھا کہ بنیادی حقوق یقینی بنانے کیلئے اپیل کا حق دیا جائے،9 اور 10 مئی واقعات پر سپریم کورٹ کی آبزرویشن سے ٹرائل متاثر ہونگے۔

جواد ایس خواجہ نے مزید کہا ہے کہ زیرالتواء مقدمات پر سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کا موقف فیصلے کا حصہ بنایا،آئینی بنچ نے فیصلے میں شہریوں کو بنیادی حقوق سے محروم کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں:فوجی عدالتوں کو عام عدالتی نظام کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا، جسٹس مندوخیل اور جسٹس نعیم اختر کا اختلافی نوٹ جاری