مخصوص نشستیں نظرثانی کیس؛الیکشن کمیشن اور پیپلزپارٹی نے تحریری معروضات جمع کرادیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
(امانت گشکوری)مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دینے کیخلاف نظرثانی کیس میں الیکشن کمیشن اور پیپلزپارٹی نے سپریم کورٹ میں تحریری معروضات جمع کرا دیں۔
الیکشن کمیشن نے معروضات میں کہا ہے کہ اکثریتی فیصلے میں لکھا ہے کہ تحریک انصاف عدالت کے سامنے موجود تھی،تحریک انصاف نے کبھی مخصوص نشستوں کی استدعا ہی نہیں کی،الیکشن کمیشن کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے کسی فورم پر مخصوص نشستیں نہیں مانگیں،12 جولائی کے فیصلے میں سنی اتحاد کونسل کو تحریک انصاف سے بدل دیا گیا، مخصوص نشستوں کی فہرست الیکشن پروگرام کے مطابق پولنگ سے قبل جمع ہوتی ہے،12 جولائی کے فیصلے میں تحریک انصاف کو مخصوص نشستوں کی فہرست جمع کرانے کا حکم دیا گیا،الیکشن کے بعد فہرست جمع کرانے کا حکم قانون کیخلاف ہے۔
الیکشن کمیشن نے کہاہے کہ 39 ارکان کو قانونی طریقے کے برعکس تحریک انصاف کا قرار دیا گیا،مکمل انصاف کا ریلیف دائرہ اختیار سے باہر جاکر دیا گیا،الیکشن ایکٹ کو کالعدم قرار دینے میں الیکشن کو سنا نہیں گیا،الیکشن کمیشن نے مزید کہناتھا کہ اکثریتی ججز نے 14 ستمبر اور 18 اکتوبر کی وضاحت پر نوٹس نہیں کیا،دونوں وضاحتوں سے قبل کیس 13 رکنی بنچ کے سامنے نہیں لگایا گیا،اکثریتی فیصلہ آرٹیکل 10اے اور آرٹیکل 4 کی خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پانی روکنے کی کوشش ہوئی تو ملٹری آپشن کھل جائے گا: چیئرمین واپڈا
ادھرپیپلز پارٹی کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع تحریری گزارشات میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ فیصلے میں درخواست اور مانگے گئے ریلیف سے تجاوز کیا گیا،تنازع صرف یہ تھا کہ کیا سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں ملنی چاہئیں؟پی ٹی آئی کے حق میں مخصوص نشستوں کا معاملہ زیر غور ہی نہیں تھا،سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں میں ایسا فیصلہ دیا جو فریقین کی درخواست سے متعلق نہیں تھا،سپریم کورٹ اکثریتی فیصلے میں دائرہ اختیار سے تجاوز کیا گیا،مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے میں وہ ریلیف دیا گیا جو مانگا ہی نہیں گیا، عدالت نے اصل سوال سے ہٹ کر فیصلہ دیا۔
پیپلزپارٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ایس آئی سی اور پی ٹی آئی دو الگ سیاسی جماعتیں ہیں، فیصلے میں ایس آئی سی اور پی ٹی آئی کو غلط طور پر یکساں سمجھا گیا،پی ٹی آئی نے انتخابات میں حصہ ہی نہیں لیا،کوئی امیدوار پی ٹی آئی سے وابستگی کا دعویٰ نہیں کرتا،فیصلے میں آزاد امیدواروں کو پی ٹی آئی سے منسلک قرار دینا غلط ہے۔
یہ بھی پڑھیں:خواتین کے وراثتی حقوق کے نفاذ کا بل 2025 پنجاب اسمبلی میں پیش