ایل پی جی کی قیمت 210 روپے فی کلو پر آنے کا امکان
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز )مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں بہتری اور عالمی پابندیاں ختم ہونے کی صورت میں ایران سے مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی درآمدات میں اضافے کے باعث ملک میں گیس کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایل پی جی مارکیٹرز ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین محمد علی حیدر کے مطابق اگر خطے کی صورتحال بہتر ہوتی ہے اور ایران پر عائد ممکنہ پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں تو ایران سے ایل پی جی کی درآمد 12 لاکھ 50 ہزار ٹن سے بڑھ کر 20 لاکھ ٹن تک پہنچ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں فی کلوگرام قیمت 210 روپے کی سطح تک آ سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں سالانہ مجموعی طور پر تقریباً 14 لاکھ ٹن ایل پی جی درآمد کی جاتی ہے، جس میں سے 2 لاکھ 50 ہزار ٹن سمندری راستے جبکہ 12 لاکھ 50 ہزار ٹن ایران سے ملحقہ زمینی راستوں کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے۔
محمد علی حیدر کے مطابق اس وقت روزانہ 390 سے 460 ایل پی جی باؤزر ایران سے پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں، جن کی ترسیل تافتان، گوادر اور مند کے سرحدی راستوں سے کی جاتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ عالمی مارکیٹ میں بیوٹین کی قیمت کم ہو کر 600 ڈالر فی ٹن اور پروپین کی قیمت 500 ڈالر فی ٹن تک آ گئی ہے، جس کے اثرات آئندہ ماہ سعودی آرامکو کنٹریکٹ پرائس پر بھی پڑنے کا امکان ہے، جو 796 ڈالر سے کم ہو کر 592 ڈالر فی ٹن تک آ سکتی ہے۔
ان کے مطابق اس صورتحال کے نتیجے میں ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں 65 سے 70 روپے تک کمی متوقع ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اگرچہ ایران سے کراچی کے لیے ترسیل معمول کے مطابق جاری ہے، تاہم سیکیورٹی خدشات اور امن و امان کی صورتحال کے باعث مند اور تافتان کے راستے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے لیے ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر خطے میں استحکام برقرار رہتا ہے تو توانائی کے شعبے میں بہتری کے ساتھ ساتھ عام صارفین کو بھی واضح ریلیف مل سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :پاکستان پہلی بار انٹرنیشنل اولیو کونسل کا مستقل رکن بن گیا