موسلا دھار بارشیں، پنجاب میں سیلاب نے تباہی مچا دی، ویگو ڈالا برساتی نالے میں بہہ گیا

Jul 30, 2025 | 09:33:AM
موسلا دھار بارشیں، پنجاب میں سیلاب نے تباہی مچا دی، ویگو ڈالا برساتی نالے میں بہہ گیا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (24 نیوز )  ملک بھر میں مون سون بارشوں کا دھواں دار سپیل  جاری ہے، برسات کے بعد پنجاب کے کئی دیہات میں سیلابی صورتحال ہے،حسن ابدال میں ویگو ڈالا برساتی نالے میں بہہ گیا، 5 افراد لاپتہ،  ریسکیو  نے آپریشن جاری کر دیا ۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد، راولپنڈی میں موسلادھار بارش ہوئی، نشیبی علاقے زیر آب آگئے، واسا نے ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے رین ایمرجنسی نافذ کردی، راولپنڈی میں سب سے زیادہ بارش ہوئی، سید پور میں 90 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی، شمس آباد میں 80، کٹاریاں 78 ،،پی ایم ڈی 55 اور پیر ودھائی،52 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

مردان، سوات، ایبٹ آباد، مظفرآباد اور دیگر شہروں میں بھی بادل برسے، ہری پورمیں نشیبی علاقے زیرآب آگئے، پانی گھروں میں داخل ہوگیا، کالا باغ میں بھی موسلادھار بارش ہوئی، ندی نالوں میں طغیانی آگئی، پنجاب اور کے پی میں بارشوں سے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ بڑھ گیا۔

 یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی بھارت کو دھمکی۔۔۔

بارشوں سے پہاڑی علاقوں کے برساتی نالوں میں تیز بہاؤ کا امکان بڑھ گیا، ایبٹ آباد کےعلاقے درویش آباد میں بارش کے باعث مکان کی چھت گر گئی، ملبے تلے دب کر 2 بچیاں جاں بحق ہوگئیں۔

دوسری جانب  حسن ابدال میں جھاری کس کے قریب ویگو ڈالا برساتی نالے میں بہہ گیا،پانچ افراد لاپتہ ہوگئے،سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے،ریسکیو حکام نے پانچ افراد کو زندہ نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کردیا،لاپتہ افراد میں چار خواتین اور ایک بچہ شامل ہیں۔

ریسکیو حکام کا کہنا ہےکہ ویگو گاڑی میں 10 افراد سوار تھے،ریسکیواہلکاروں سمیت غوطہ خوربھی موقع پرموجود ہیں۔

 برسات کے بعد پنجاب کے کئی دیہات میں سیلابی صورتحال ہے۔ لیہ ،کروڑ لعل عیسن اور کوٹ سلطان کے کئی دیہات پانی میں گِھر گئے۔

 جہلم کے دیہات میں بھی ریلے بہنے لگے۔ پنڈدادن خان، سوہاوہ سمیت کئی علاقے شدید متاثر ہوئے۔ شکر گڑھ کے نالہ بیئں کا بہاؤ تیزی سے بڑھنے لگا۔

برسات کے بعد پنجاب کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال شدت اختیار کر گئی ہے۔ لیہ، کروڑ لعل عیسن اور کوٹ سلطان کے کئی دیہات پانی میں ڈوب گئے ہیں جبکہ جہلم کے دیہات میں بھی ریلے بہنے لگے ہیں۔

پنڈ دادن خان، سوہاوہ اور دیگر کئی علاقے شدید متاثر ہو گئے ہیں، اور شکرگڑھ کے نالہ بیئں کا بہاؤ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ لیہ کے نشیبی علاقوں میں دریائے سندھ نے تباہی مچا دی۔ کروڑ لعل عیسن اور کوٹ سلطان کے بیشتر گاؤں ڈوب گئے ہیں۔

چار لاکھ کیوسک کے ریلے نے بیس دیہات کو متاثر کیا، جس سے مکانات، اسکول، ڈسپنسریاں، مساجد اور سڑکیں زیر آب آ گئیں۔ کماد، چاول، کپاس اور تل کی فصلیں بھی ریلے کی زد میں آ گئیں۔

تونسہ پل کا گائیڈڈ بند ٹوٹنے کے باعث موضع سمرا میں سیلاب کا ریلہ داخل ہوگیا، جس کے نتیجے میں 70 کلومیٹر کے نشیبی علاقے کے مکینوں کو اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔

 مزید پڑھیں:ایک اور جھٹکا، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ

جہلم کے کئی دیہات میں بھی ریلے بہنے لگے ہیں، جس کے نتیجے میں مال و مویشی بہہ گئے اور ضلع میں سیلاب نے سات جانیں بھی لے لیں۔ پنڈدادنخان اور سوہاوہ سمیت دیگر علاقوں میں سڑکیں بہہ گئیں جبکہ متعدد چھوٹے بڑے پل اور چھوٹے بند بھی تباہ ہو گئے ہیں۔

خورد، نئی آبادی بھمبر، داراپور، دادووال، ڈھوک چٹی، جگتہ، سوہاوہ اور پی ڈی خان جیسے علاقے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

راجن پور میں تونسہ بیراج پر دریا کا بہاؤ کم ہو رہا ہے لیکن شکرگڑھ کے نالہ بیئں کا بہاؤ تیزی سے بڑھ رہا ہے جس پر انتظامیہ نے نالے کے کنارے جانے پر پابندی لگا دی ہے۔