کم عمر بچیوں میں چاکلیٹ جیسی سفید منشیات کے استعمال کا مسئللہ قومی اسمبلی کی ہیومن رائٹس کمیٹی میں پہنچ گیا

Dec 30, 2025 | 17:36:PM
 منشیات کا پھیلاؤ، آئس، سوشل میڈیا پر ہراسانی، نوشین افتخار، آسیہ ناز تنولی، ناز بلوچ، سائبر کرائمز، ایف آئی اے، چاکلیٹ نما منشیات، Drug proliferation, ice, harassment on social media, Nousheen Iftikhar, Asia Naz Tanoli, Naz Baloch, cybercrimes, FIA, chocolate-like drugs
کیپشن: چئیرپرسن نوشین افتخار نے قومی اسمبلی کی انسانی حقوق کمیٹی کے اجلاس میں خواتین کو ہراساں کئے جانے کے بڑھتے واقعات کے مسئلہ کو کاکس کے اجلاس میں لے جانے اور بچیوں میں منشیات کے پھیلاؤ کے مسئلہ پر ہیومن رائٹس کمیٹی کا الگ سے اجلاس کرنے کی تجاویز دیں۔ 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(روزینہ علی)   کم عمر بچیوں میں چاکلیٹ جیسی سفید منشیات کے استعمال کا مسئللہ قومی اسمبلی کی ہیومن رائٹس کمیٹی میں پہنچ گیا۔ کمیٹی  کی چئیرپرسن نے اس سنگین مسئلہ پر الگ سے اجلاس طلب کر لیا۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی انسانی حقوق نے  اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری سینئر سٹیزنز (ترمیمی) بل 2025 کثرتِ رائے سے منظور کر لیا۔

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی انسانی حقوق کا اجلاس چئیرپرسن   نوشین افتخار کی صدارت میں  قومی اسمبلی کی عمارت میں ہوا۔

انسانی حقوق کمیٹی کی چئیرپرسن نوشین افتخار نے نوٹ کیا کہ وزارتِ قانون و انصاف کی طرف سے آج کوئی بھی نہیں آیا۔  نوشین افتخار نے یاد دلایا کہ گزشتہ اجلاس میں بھی وزرات سے کوئی نہیں آیا  تھا۔  

 وزارت انسانی حقوق  کے وفاقی سیکرٹری نے وضاحت کی کہ ہم نے ڈی جی کو اس کی  پوزیشن سے تبدیل کردیا ہے ، سیکریٹری نے عذر پیش کیا کہ اس دن اتفاق سے وی آئی پی موومنٹ بھی تھی جس کی وجہ سے تاخیر ہوئی۔ 

کمیٹی نے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری سینئر سٹیزنز (ترمیمی) بل 2025 کثرتِ رائے سے منظور کر لیا۔

سیکریٹری وزارت  قانون و انصاف نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد حکومت نے فیصلہ کیا کہ چھوٹے فیصلے کابینہ نہیں جانے چاہئیں متعلقہ وزارت خود کرے ۔ حکومت کی طرف سے یہ کہا گیا کہ وزارتِ قانون و انصاف اس کو دیکھے اور آگے کا لائحہ عمل تیار کرے۔ سیکریڑی وزارت انسانی حقوق  نے بتایا کہ نیشنل کمیشن برائے اقلیتی حقوق کے مؤثر قیام اور قانون کے نفاذ کے بعد مؤثر کارکردگی یقینی بنانے کے لیےسپیکر نے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔سپیکر قومی اسمبلی نے چار ممبران کی کمیٹی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

کمیٹی نے پاکستان کلائمٹ ریفیوجیز رائٹس اینڈ پروٹیکشن بل 2024 موخر کر دیا۔

کمیٹی نے فیصلہ کیا  کہ  غزہ کی خواتین ،بچے اور بوڑھوں سب کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے او آئی سی کے ساتھ مل کر آواز اٹھائیں گے ۔  وزارت انسانی حقوق ن کے نمائندہ نے بتایا، ہم ہر فورم پر یہ بات کرتے ہیں ، مگر اس وقت او آئی سی کے ساتھ مل کر رہے ہیں ، نمائندہ وزارت انسانی حقوق  نے یہ بھی بتایا کہ چائلڈ میرج بل پر اسلام آباد نے عمل درآمد شروع کردیا ہے ۔ اس قانون پر  سندھ میں عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے ، بلوچستان میں ابھی لاگو ہوا ہے۔  پنجاب میں ابھی لاگو ہونا ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں یہ اسلامک آئیڈیالوجی کونسل کو ریفر کردیا گیا ہے ۔

وزارت قانون و انصاف  کے نمائندہ نے بتایا کہ اسلام آباد میں اس ایکٹ کے بعد رجسٹرار یا نکاح خواں کی عمر کی تصدیق کے بعد رجسٹر کروا رہا ہے۔ 

سکریٹری وزارت انسانی حقوق نے بتایا کہ سندھ میں اس قانون پر عملدرآمد کم ہے ۔

 سیکریڑی وزارتِ انسانی حقوق نے کمیٹی کو بتایا کہ بیرون ملک جو پاکستانی شہری غیر قانونی حراست میں ہیں ان کی تفصیلات کے حوالے سے وزارت داخلہ سے رپورٹ طلب کی ہوئی ہے۔

خطرناک منشیات کا بچیوں میں پھیلاؤ

  کمیٹی کی رکن  آسیہ ناز تنولی نے بتایا کہ سفید رنگ کی ایک چاکلیٹ شکل کی منشیات دیکھی ہے جو بچیاں استعمال کر رہی ہیں ، آسیہ ناز تنولی نے کہا،  میں اس کے تصاویری ثبوت دینے کو بھی تیار ہوں۔

چیئرپرسن کمیٹی نے آسیہ تنولی کے نکتے پر بحث کے لیے الگ اجلاس طلب کر لیا ۔

چیئرپرسن نوشین افتخار نے نوٹ کیا کہ پاکستان میں اس وقت آئس کی وجہ سے طلاقیں ، قتل اور خودکشیاں بڑھ رہی ہیں ۔

سوشل میڈیا پر جنسی ہراسانی؛ چیئرپرسن کمیٹی نوشین افتخار کا ناز بلوچ سے مکالمہ

کمیٹی کی ایک اور رکن ناز بلوچ نے کہا، اس وقت سوشل میڈیا پر جنسی ہراسانی کے کیس بہت سامنے آرہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر خوفناک اپلیکیشنز کی بچوں کو رسائی ملی ہوئی ہے ، ممبر کمیٹی ناز بلوچ  نے شکایت کی کہ سائبر کرائم والے کہتے ہیں ہم زیادہ کیسز کو نہیں سنبھال سکتے ۔ 

ناز بلوچ نے کمیٹی کو بتایا کہ ہراصاں کی جانے والی خواتین رپورٹ کرنے کے لیے ڈرتی ہیں۔ دوسری جانب سائبر کرائم والے چھ ماہ بعد کیسز  کو سزا تک لے جانے کی زحمت کئے بغیر کوڑا دان میں پھینک دیتے ہیں۔  ناز بلوچ کی اس شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے  ہیومن رائتس کمیٹی کی چئیرپرسن نوشین افتخار نےمزید بتایا،  اگر کوئی کسی کے خلاف رپورٹ کرواتا ہے تو ایف آئی اے والے کچھ پیسے لے کر ان کو کال کرکے بتاتے ہیں کہ آپ کے خلاف کیس آیا ہے ۔  چیئرپرسن کمیٹی کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے رکن ناز بلوچ نے مزید خوفناک انکشاف کیا کہ  ایف آئی اے کی جانب سےہراساں کئے جانے کے واقعات میں استعمال ہونے والے موبائل فون  چھپا دیے جاتے ہیں۔

اس سنگین مسئلہ پر مزید بات کرتے ہوئے قومی اسمبلی کی ہیومن رائتس کمیٹی کی چئیرپرسن نے بتایا،  میں خود سائبر کرائم کی متاثرہ ہوں۔ اس چیز سے نکلنے میں مجھے نو مہینے لگ گئے۔

انہوں نے تجویز کیا کہ اس سنگین مسئلے کے  حوالے سے کاکس (خواتین ارکان پارلیمنٹ کی تنظیم) کا اجلاس بلائیں۔