پاکستان میں شرح سود کو بڑھانے کی تھیوری ناکام دکھائی دے رہی ہے:گوہر اعجاز

Apr 30, 2026 | 14:37:PM
  پاکستان میں شرح سود کو بڑھانے کی تھیوری ناکام دکھائی دے رہی ہے:گوہر اعجاز
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(وقاص عظیم)سابق نگراں وفاقی وزیر اور چیئرمین ایکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ  وزیر گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ  پاکستان میں شرح سود کو بڑھانے کی تھیوری ناکام دکھائی دے رہی ہے، اسٹیٹ بینک شرح سود بڑھا کر سپلائی سائیڈ مہنگائی کو قابو نہیں کر سکتا شرح سود کو بڑھانا لاگت پر مبنی مہنگائی کے لیے موزوں حل نہیں۔ 

 ڈاکٹر گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ پاکستان نے شرح سود بڑھا دی، امریکہ نے برقرار رکھی   لیکن کیا یہ درست حکمت عملی ہے؟” موجودہ عالمی تیل کی صورتحال میں بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتیں مختلف معیشتوں میں مہنگائی کو بڑھا رہی ہیں پاکستان نے اس کے جواب میں شرح سود میں 100 بیسس پوائنٹس اضافہ کرتے ہوئے اسے 10.5 فیصد سے 11.5 فیصد کر دیا ہے، جبکہ امریکہ نے اپنی شرح سود تقریباً 3.5 فیصد پر برقرار رکھی ہے۔

 گوہر اعجاز نے کہا کہ امریکی مرکزی بینک، فیڈرل ریزرو، کی جانب سے شرح سود کو برقرار رکھنا اس معاشی نظریے کے مطابق ہے کہ سپلائی سائیڈ مہنگائی جو بنیادی طور پر ایندھن اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے کو صرف شرح سود میں اضافے سے مؤثر طریقے سے کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعلیٰ مریم نواز کا کچہ ایریا میں 23ارب روپے کے ڈویلپمنٹ پراجیکٹس کا اعلان

سابق وزیر نے کہا کہ شرح سود میں اضافہ طلب پر مبنی مہنگائی (Demand-Pull Inflation) کو کنٹرول کرنے میں مؤثر ہوتا ہے، جہاں زیادہ طلب قیمتوں میں اضافے کا باعث بنتی ہے، لیکن یہ لاگت پر مبنی (Cost-Push / Supply-Side) مہنگائی کے لیے موزوں حل نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال جو جنگ اور عالمی سطح پر تیل و گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پیدا ہوئی ہے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے سخت مانیٹری پالیسی اختیار کرنا بھاری قیمت کا سبب بن سکتا ہے، زیادہ شرح سود حکومتی قرضوں کی لاگت میں اضافہ کرتی ہے، جس کے نتیجے میں قرضوں کی ادائیگی پر اضافی بوجھ کے ذریعے ٹیکس دہندگان پر تقریباً 600 ارب روپے کا مزید بوجھ پڑ سکتا ہے