باؤلے کتوں کوویکسین کیوں نہیں لگائی جاتی؟بنام سرکارمیں اینکرزوہیب سلیم بٹ کے سخت سوالات
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)’’بنام سرکار‘‘ کےسپیشل پروگرام میں اینکر زوہیب سلیم بٹ نے ڈپٹی کمشنر لاہور سے اہم، سنجیدہ اور سخت نوعیت کے سوالات کیے، جبکہ پروگرام میں ماہر قانون و جانوروں کے حقوق ایڈووکیٹ التمش سعید بھی شریک تھے۔
پروگرام کے دوران لاہور میں آوارہ کتوں کے بڑھتے ہوئے مسئلے، شہریوں کو لاحق خطرات اور حالیہ افسوسناک واقعے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
لاہور کے علاقے ٹاؤن شپ میں پیش آنے والے ایک دلخراش واقعے نے پورے شہر کو سوگوار کر دیا، جہاں آوارہ کتوں کے کاٹنے سے 8 سالہ بچی جان کی بازی ہار گئی، اس واقعے نے نہ صرف شہریوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا بلکہ انتظامیہ کی کارکردگی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق بچی گھر کے قریب کھیل رہی تھی کہ اچانک آوارہ کتوں نے اس پر حملہ کر دیا، شدید زخمی حالت میں اسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، مگر وہ جانبر نہ ہو سکی۔ اہل خانہ اور علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں آوارہ کتوں کی بھرمار ہے اور متعدد بار شکایات کے باوجود کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔
پروگرام کے دوران اینکر کی جانب سے اہم سوال اٹھایا گیا کہ اس واقعے کا اصل ذمہ دار کون ہے؟ کیا متعلقہ اداروں نے اپنی ذمہ داریاں پوری کیں؟ اور کیا اس واقعے کے بعد کسی قسم کی عملی کارروائی دیکھنے میں آئی؟ ان سوالات کے جواب میں ڈپٹی کمشنر لاہور نے کہا کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا گیا ، متعلقہ افسران سے رپورٹ طلب کی گئی اور غفلت برتنے والوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔

مزید گفتگو میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ لاہور میں آوارہ کتوں کی تعداد ایک لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہےجو ایک سنگین شہری مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے ایڈووکیٹ التمش سعید نے واضح کیا کہ قانون آوارہ کتوں کو اندھا دھند مارنے کی اجازت نہیں دیتا بلکہ مہذب معاشروں میں ان کا حل ویکسینیشن، اسٹرلائزیشن (نسل کشی نہیں بلکہ افزائش نسل پر کنٹرول) اور مناسب نگرانی کے ذریعے نکالا جاتا ہے۔
پروگرام میں یہ سوال بھی زیر بحث آیا کہ باؤلے کتوں کو ویکسین کیوں نہیں لگائی جاتی اور کیا ویکسین کے بعد بھی وہ خطرناک رہتے ہیں؟ ماہرین کے مطابق اگر بروقت ویکسینیشن اور مانیٹرنگ کی جائے تو خطرات کو بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے، تاہم اس کے لیے مستقل پالیسی اور وسائل کی فراہمی ناگزیر ہے۔شہریوں نے اس واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہےکہ حکومت وقتی اقدامات کے بجائے ایک جامع اور دیرپا حکمت عملی اختیار کرے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک سانحات سے بچا جا سکے اور شہریوں کو محفوظ اور پُرسکون ماحول فراہم کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:لیڈی ولنگڈن ہسپتال میں سکیورٹی گارڈ بے ہوشی کا ڈاکٹر بن گیا
پروگرام کے اختتام میں اینکر زوہیب سلیم بٹ نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی جانوں کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے اور ایسے واقعات کسی صورت میں قابلِ قبول نہیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ ادارے فوری، مؤثر اور مستقل بنیادوں پر اقدامات کریں، ورنہ ایسے سانحات بار بار جنم لیتے رہیں گے۔ پروگرام کا اختتام اس عزم کے ساتھ کیا گیا کہ اس مسئلے کو اجاگر کیا جاتا رہے گا تاکہ حکام عملی اقدامات پر مجبور ہوں اور شہریوں کو ایک محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔