میشا شفیع کی ٹرائل کورٹ کے فیصلے کیخلاف درخواست خارج

Jan 29, 2026 | 10:50:AM
میشا شفیع کی ٹرائل کورٹ کے فیصلے کیخلاف درخواست خارج
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ملک اشرف)لاہور ہائیکورٹ نے ہتک عزت قانون سے متعلق بڑا فیصلہ سنادیا۔
معروف گلوکار علی ظفر کے میشا شفیع کے خلاف 100 کروڑ کےہتک عزت کیس کی سماعت ہوئی،عدالت نے میشا شفیع کی ٹرائل کورٹ کے فیصلے کیخلاف درخواست خارج کر دی۔
جسٹس احمد ندیم ارشد نے میشا شفیع کی سوشل میڈیا پر بیان بازی پر پابندی کے خلاف درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کیا,عدالت نے چھ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلےکو عدالتی نظیر قراردیا.

ہائیکورٹ نے میشا شفیع کی نامناسب بیان بازی پر پابندی بھی درست قراردیتے ہوئے کہاکہ کیس کے حتمی فیصلے سے قبل سوشل میڈیا ٹرائل سے علی ظفر کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے،آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کسی کی تضحیک کی اجازت نہیں دی جاسکتی،آئین پاکستان میں آزادی اظہار رائے بھی مشروط ہے۔
 تحریری فیصلے کے مطابق آئین کا آرٹیکل 14 ہر شہری کی عزت وقار کا تحفظ کرتا ہے،ہتک عزت قانون 2002 آزادی اظہار اور شہری کی عزت وقار دونوں حقوق میں توازن رکھتا ہے،گلوکار علی ظفر اندرون اور بیرون ملک شہرت رکھتے ہیں،میشا شفیع کے الزامات درست ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ ٹرائل کورٹ نے شہادت کے بعد کرنا ہے،دوران ٹرائل سوشل میڈیا پر الزامات لگانے سے شہری کی ساکھ متاثر ہوسکتی ہے، ہر جانہ کی ادائیگی کسی کی ساکھ کو خراب کرنے کا متبادل نہیں ہو سکتا،ما تحت عدالت نے پابندی کا جو حکم دیا اسے برقرار رکھا جاتا ہے۔
ہائی کورٹ نے ٹرائل عدالت کو تیس روز میں ہتک عزت کیس کا فیصلہ کرنے کی بھی ہدایت کردی۔

یہ بھی پڑھیں:رنویر سنگھ بڑی مشکل میں پھنس گئے
میشا شفیع نے ٹرائل کورٹ کا پابندی کا فیصلہ لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس میں موقف اختیارکیاتھاکہ بیان دینے پر پابندی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے،کسی کے خلاف کوئی بیان بازی نہیں کرنی اپنا نقطہ نظر بیان کرنا ہے ۔
ماتحت عدالت میں گلوکار علی ظفر نے میشا شفیع کے خلاف سو کروڑ ہرجانے کا دعوی دائر کر رکھا ہے۔