شدید برفباری کے بعد ضلع شانگلہ میں بجلی کا بحران برقرار،عوام مشکلات کا شکار
Stay tuned with 24 News HD Android App
(طفیل احمد حسنزئی) خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ میں شدید برفباری کے6دن گزرنے کے باوجود بجلی کا نظام مکمل طور پر بحال نہ ہو سکا جس کے باعث ضلع کے متعدد علاقوں میں عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
طویل لوڈشیڈنگ اور مکمل بلیک آؤٹ کے باعث گھریلو زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے جبکہ متعلقہ ادارے اور سیاسی قیادت تاحال کوئی مؤثر حل پیش کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔
برفباری کے فوراً بعد بجلی کی لائنیں منقطع ہوئیں تاہم کئی دن گزرنے کے باوجود نہ تو خراب ٹرانسمیشن لائنیں بحال کی جا سکیں اور نہ ہی عوام کو کسی واضح ٹائم فریم سے آگاہ کیا گیا،شدید سردی میں بجلی کی عدم فراہمی نے بچوں، بزرگوں اور مریضوں کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔
عوامی حلقوں کی جانب سے ضلع کی سیاسی قیادت پر شدید تنقید کی جا رہی ہے، شانگلہ سے منتخب ایم پی اے ڈاکٹر عباد اپوزیشن لیڈر ہیں، ان کے بھائی امیر مقام وفاقی وزیر جبکہ بھانجا سینیٹر ہے۔
اسی طرح حاجی عبدالمنعم صوبائی اسمبلی کے رکن اور حکومتی جماعت (پی ٹی آئی) سے تعلق رکھتے ہیں مگر اس کے باوجود ضلع کے عوام بجلی جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلع شانگلہ میں 2002 سے یہی سیاسی قیادت مسلسل اسمبلیوں میں موجود ہے مگر اس طویل دور میں بھی عوامی مسائل، خصوصاً بجلی، سڑکوں اور صحت کی سہولیات کے مسائل حل نہیں ہو سکے۔
عوام سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر اتنی مضبوط سیاسی نمائندگی کے باوجود بھی ایک قدرتی آفت کے بعد بجلی بحال نہیں ہو سکتی تو عام شہری کس سے امید رکھے؟
عوامی حلقوں نے حکومتِ خیبر پختونخوا اور واپڈا حکام سے فوری نوٹس لینے اور ہنگامی بنیادوں پر بجلی کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ سیاسی قیادت سے بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ بیانات کے بجائے عملی اقدامات کرے۔