بھارت نے جارحیت کی تو اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے:اسحاق ڈار
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار نے بھارت کو کھری کھری سناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جارحیت کی گئی تو اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ایوان بالا میں بحث کے دوران نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے کہا کہ پاکستان اقدام میں پہل نہیں کرے گا ،قائم مقام چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر کی زیرِ صدارت اجلاس سینیٹ کا اجلاس ہوا۔
اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحٰق ڈار کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے دل کی گہرائیوں سے تمام سینیٹ کے اراکین کا شکریہ ادا کروں گا کہ ایک اتحاد کا مظاہرہ کیا گیا ہے، جس طرح نیشنل سیکیورٹی کمیٹی میں سول اور ملٹری قیادت نے ایک دفعہ پھر ایک پیج پر ہونے کا دنیا کو واضح پیغام دیا۔
انہوں نے کہا کہ اسی طرح فیڈریشن کی نمائندگی کرتا ہوا یہ ایوان، جس میں تمام صوبوں کی نمائندگی موجود ہے، سینیٹ نے بھی بڑے واضح انداز میں دنیا کو پیغام دیا۔
سینیٹر اسحٰق ڈار کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے قرارداد کو حتمی شکل دینے میں تمام پارلیمانی جماعتوں بالخصوص قائد حزب اختلاف، وزیر قانون، شیری رحمٰن اور تمام ساتھیوں کا شکر گزار ہوں، ہم نے جو ڈرافٹ بنایا، اس پر ہم نے افہام و تفہیم کے ذریعے جامع پیغام بنا کر اسے اس ایوان میں پیش کیا، جسے متفقہ طور پر منظور کیا گیا، انہوں نے کہا کہ سینیٹ سے قرارداد متفقہ تیار ہوئی اور منظور ہوئی، یہ عمل قابل تعریف ہے اور تاریخی ہے۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس وقت تک ہم نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، چین، برطانیہ، ترکیہ، آذربائیجان، کویت، بحرن اور ہنگری کے وزرائے خارجہ سے بات کی، جبکہ قطر کے وزیر اعظم سے بات کی۔
اسحٰق ڈار نے کہا کہ یہ دوست ممالک ہیں، ان کو میں نے ذاتی طور پر بھارت کی تاریخ اور اقدامات سے آگاہ کیا،اس کے ساتھ ساتھ اپنے خدشات بھی بتائے کہ بھارت کے ممکنہ کیا عزائم ہو سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پلوامہ حملہ ہوا، تو مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 کو ختم کر دیا گیا، اس دفعہ ہماری سوچ ہے کہ دو ڈھائی سال سے لگے ہوئے ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ حالات تبدیل ہوگئے، اس سے معاہدہ ختم نہیں ہو سکتا، یہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب دونوں فریقین متفق ہوں، مجھے شک ہے کہ شاید اسے ختم کرنے کے لیے ڈرامہ رچایا گیا۔
نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار نے کہا کہ میں اعتماد سے کہ رہا ہوں پہلگام واقعہ میں پاکستان کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ چین اور ترکیہ نے بڑا واضح مؤقف لیا ہے، چینی وزیر خارجہ سے بڑی تفصیل سے بات ہوئی، انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔
وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ہم نے پہلے دن ردعمل دیا تھا کہ جتنا کیا ہے اس کے ساتھ اتنا ضرور کریں گے، ہماری رپورٹس ہیں کہ اس سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ کشیدگی بڑھانے پر غور کر رہے ہیں، ہم پہل نہیں کریں گے لیکن بھارت نے جارحیت کی، تو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمیں اپنے آپ کو عالمی طور پر رابطہ میں رکھنا ہے، بھارت بیانیہ بنانے میں ناکام ہوگیا، بھارتی سیاستدان اب مودی کے استعفے کا مطالبہ کررہے ہیں۔
سینیٹ میں پہلگام واقعہ کے بعد پاک بھارت کشیدگی کے مسئلہ پر بحث ہوئی، پاکستان پیپلزپارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی دشمنی پاکستان سے نہیں بلکہ مسلمانوں اور اسلام سے ہے۔
ان کا کہا تھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی گجرات کے مسلمانوں کو قاتل ہے، اگر دشمن نے کوئی جارحیت کی تو وہ صدیوں تک یاد رکھیں گے۔
یہ بھی پڑھیں :اس وقت بیک ڈور کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، فیصل چوہدری