ناکام سازشوں کا اسیر بھارت
تحریر: سفیر رضا چغتائی
Stay tuned with 24 News HD Android App
برصغیر میں قیامِ امن کی تمام امیدوں کو سبوتاژ کرنے والی بھارتی پالیسیاں اب خود بھارت کے لئے بوجھ بن چکی ہیں۔ وہ ملک جو کبھی خطے میں اپنی بالادستی کے خواب دیکھتا تھا، آج اپنے ہی جھوٹے بیانیوں، عسکری مہم جوئیوں اور سفارتی فریب کاریوں کا قیدی بن کر رہ گیا ہے۔خطے میں دیرپا امن کی خواہش کو سب سے زیادہ زک بھارتی حکومت کی ان پالیسیوں سے پہنچی ہے جن کا مقصد تنازعات کو زندہ رکھ کر اپنی داخلی ناکامیوں پر پردہ ڈالنا تھا تاہم بدلتے ہوئے عالمی حالات، بیدار عوام، اور غیر جانبدار میڈیا نے اس چالاکی کو طشت از بام کر دیا ہے۔
آج خود بھارت کے سنجیدہ حلقے کھل کر اس حقیقت کا اعتراف کر رہے ہیں کہ نہ عوام ان پالیسیوں کا ساتھ دے رہی ہے، نہ فوج کسی نئی مہم جوئی کے لیے آمادہ ہے، اور نہ ہی عالمی برادری بھارتی بیانیے کو سنجیدگی سے لیتی ہے۔حالیہ دنوں میں پیش آنے والے پہلگام سانحے نے ان پالیسیوں کی قلعی مزید کھول دی ہے۔ پہلگام میں پیش آنے والے افسوسناک واقعہ کو بھارتی حکومت نے روایتی انداز میں ایک فالس فلیگ آپریشن کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی۔ بھارتی میڈیا نے حسب معمول سنسنی پھیلائی، جھوٹے الزامات لگائے اور حقیقت کو مسخ کرنے کی بھرپور سعی کی۔ مگر اس بار سچائی کی طاقت زیادہ مضبوط ثابت ہوئی۔کئی سنجیدہ صحافیوں نے کھل کر کہا کہ پہلگام کا واقعہ ایک منصوبہ بند کارروائی معلوم ہوتا ہے۔
آزاد مبصرین نے بھارتی اسٹیبلشمنٹ کی مکاری کو بے نقاب کیا۔کشمیری عوام نے اس فریب کو پوری شدت سے مسترد کر دیا۔ وادی میں جگہ جگہ احتجاجی مظاہرے ہوئے، پہلگام سے لے کر سری نگر اور اننت ناگ تک عوام نے نعروں کے ذریعے اپنا موقف دنیا تک پہنچایا۔ کشمیری عوام کا رویہ ایک پرامن، مہذب مگر پُرعزم قوم کی عکاسی کرتا ہے جو حق، سچ اور آزادی کے حصول کے لئے پُرامن جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔پاکستانی میڈیا کا کردار اس تمام عرصے میں نہایت ذمہ دارانہ رہا۔نجی ٹی وی چینلز سمیت قومی نشریاتی اداروں نے سنسنی خیزی سے گریز کرتے ہوئے سچائی اور تحقیق پر مبنی رپورٹنگ کی۔ پاکستانی میڈیا نے ثابت کیا کہ ایک باشعور قوم کا میڈیا اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتا ہے اور بحران کے لمحات میں اشتعال انگیزی کی بجائے ہوشمندی کو اپناتا ہے۔
آج بھارتی حکومت اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر دباؤ میں ہے۔ بھارتی فوج کے اندر سے یہ آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ عسکری قوت کے بل پر سیاسی عزائم کی تکمیل نہ ممکن ہے۔ مودی حکومت کے وہ وعدے، جو کبھی عوامی مقبولیت کے زینے تھے، اب بوجھ بن کر حکمرانوں کے گلے میں پڑ گئے ہیں۔ اقتصادی بدحالی، داخلی انتشار اور عالمی تنہائی نے بھارت کو ایک ایسے دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ہر راستہ پچھتاوے اور ناکامی کی طرف جاتا دکھائی دیتا ہے۔خود بھارت کے باشعور طبقے اب برملا اظہار کر رہے ہیں کہ حکومت کی پالیسیز نے ہندوستان کو دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ بنا دیا ہے۔ سچائی یہ ہے کہ جب عوام، فوج اور عالمی برادری کا اعتماد ہاتھ سے نکل جائے تو پھر حکومت کی تمام چالاکیاں اور فریب اپنی موت آپ مر جاتے ہیں۔
پاکستان نے ہمیشہ مثبت سفارت کاری، خطے میں امن کے فروغ، اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے اصولی موقف کو آگے بڑھایا ہے۔ پاکستانی عوام اور مسلح افواج نے ہر مرحلے پر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے قومی مفادات کی حفاظت کرنا جانتے ہیں بلکہ خطے کے امن کو بھی اپنی ترجیحات میں اولیت دیتے ہیں۔ کشمیری عوام کا پاکستان سے والہانہ تعلق اور پاک افواج کے ساتھ ان کی محبت، اس جدوجہد کو ایک روحانی اور نظریاتی بنیاد فراہم کرتی ہے۔آج خطہ ایک نازک دوراہے پر کھڑا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب جھوٹ کی دیواریں گرنے لگتی ہیں تو سچائی کے قافلے منزلیں خود تراش لیتے ہیں۔ بھارت اگر اب بھی ہوش کے ناخن نہ لے اور نفرت، جارحیت اور مکاری کی راہوں کو ترک نہ کرے تو آنے والا وقت اس کے لئے مزید تنہائی، شرمندگی اور شکست کا پیامبر ثابت ہوگا۔وقت کا تقاضا ہے کہ دہلی اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے، خطے میں امن اور بھائی چارے کی راہ اپنائے، اور عوام کی خواہشات کا احترام کرے۔ بصورت دیگر بھارت اپنے ہی پیدا کردہ طوفان میں غرق ہو جائے گا، اور تاریخ میں ایک ناکام ریاست کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
کشمیری عوام کی جدوجہد محض زمین کے ایک ٹکڑے کے لئے نہیں، بلکہ اپنی شناخت، اپنی آزادی اور اپنے بنیادی انسانی حقوق کے لئے ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں ہزاروں کشمیریوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، سینکڑوں معصوم بچے یتیم ہوئے، ہزاروں مائیں اپنے لالوں کی راہ تکتیں رہ گئیں، مگر عزم کا چراغ کبھی مدھم نہ ہوا۔یہ جدوجہد دنیا کی اُن چند تحریکوں میں شامل ہے جس نے اپنی اساس ہمیشہ سچ، قربانی اور صبر پر رکھی ہے۔ کشمیری عوام نے اپنے حق کے لئے جس استقامت کا مظاہرہ کیا، وہ تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔نہ پیلٹ گنوں کی بارش انہیں جھکا سکی، نہ قید و بند کی صعوبتیں ان کا حوصلہ توڑ سکیں، نہ جعلی مقابلے ان کی آواز کو دبا سکے، نہ کرفیو اور محاصرے ان کے جذبے کو شکست دے سکے۔ آج بھی کشمیر کی گلیوں میں ”ہم کیا چاہتے؟ آزادی!“کی صدائیں گونجتی ہیں، جو ہر ظلم کے سامنے دیوارِ استقامت بن کر کھڑی ہو جاتی ہیں۔سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ کشمیری عوام کی جدوجہد کسی ایک قوم یا مذہب کے خلاف نہیں، بلکہ ظلم، جبر اور ناانصافی کے خلاف ہے۔ ان کا مقدمہ عالمی انسانی ضمیر کے سامنے ہے، اور یہی کشمیری عوام کی اخلاقی برتری کا سب سے روشن ثبوت ہے۔پاکستان کے ساتھ کشمیریوں کا والہانہ تعلق محض جغرافیائی یا لسانی ہم آہنگی پر مبنی نہیں، بلکہ یہ ایک فطری، نظریاتی اور قلبی رشتہ ہے۔
کشمیر بنے گا پاکستان‘صرف ایک نعرہ نہیں، بلکہ ایک عہد ہے، ایک خواب ہے، جس کی آبیاری کشمیریوں نے اپنے خون سے کی ہے اور پاکستانی قوم نے اپنی محبت سے۔آج کشمیری عوام، پاکستان اور حق و سچائی کی حمایت کرنے والی عالمی آوازیں ایک نئے سورج کے طلوع کی نوید دے رہی ہیں۔ وہ سورج جس کی روشنی میں آزادی، امن اور عزت کا سویرا ہوگا۔کشمیری جدوجہد ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اگر عزم سچا ہو، جذبہ خالص ہو، اور مقصد عظیم ہو، تو دنیا کی کوئی طاقت ظلم کی دیوار کو برقرار نہیں رکھ سکتی۔ ظلم کی رات کتنی ہی طویل ہو، سچ کا سویرا یقینی ہوتا ہے۔کشمیری عوام کی جدوجہد ایک روشن مثال ہے کہ جب قومیں اپنے حقوق کی خاطر اٹھ کھڑی ہوتی ہیں، تو اُن کے عزم اور جرات کی کوئی طاقت مقابلہ نہیں کر سکتی۔ ان کی صبر و استقامت نے دنیا کو یہ سکھایا کہ سچائی کا راستہ ہمیشہ کٹھن ہو تا ہے، مگر وہ آخرکار فتح یاب ہوتا ہے۔ یہ تحریک نہ صرف کشمیر کے لیے ہے، بلکہ وہ ہر قوم کے لیے پیغام ہے جو ظلم و جبر کے خلاف اپنی آواز بلند کرتی ہے۔
آج جب کشمیر کی گلیوں میں ”ہم کیا چاہتے؟ آزادی“!کے نعرے گونجتے ہیں، تو وہ نعرے صرف ایک خطے کی آزادی کی خواہش نہیں، بلکہ پوری دنیا میں انسانی حقوق کی ایک پکار بن چکے ہیں۔ کشمیری عوام کا پاکستان کے ساتھ جو عہد ہے، وہ محض ایک جغرافیائی تعلق نہیں، بلکہ ایک نظریاتی اور روحانی رشتہ ہے جو عالمی سطح پر ظلم کے خلاف جنگ کی علامت بن چکا ہے۔پاکستان اور کشمیری عوام کا رشتہ صرف خون کا نہیں، بلکہ ایک بلند مقصد کا ہے۔ وہ مقصد جو ہر انسان کو آزادی، عزت، اور برابری کا حق دینے کی جنگ لڑ رہا ہے۔ یہ جدوجہد ایک دن دنیا کی تمام ظالم قوتوں کو شکست دے کر اس خطے میں امن اور انصاف کا پیغام پہنچائے گی۔
وقت کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری کشمیری عوام کی آواز کو سنیں، بھارت کی پالیسیوں کو حقیقت کی نظر سے دیکھیں، اور اس خطے میں دیرپا امن کی تعمیر کے لیے قدم اٹھائیں۔ کیونکہ کشمیریوں کا عزم اور پاکستان کے ساتھ ان کا رشتہ ایک نئی صبح کی نوید بن کر ابھرے گا، اور وہ دن دور نہیں جب کشمیر اپنی آزادی کی تکمیل کرے گا، اور انصاف کی کرن ساری دنیا میں چمکے گی۔