وہ خطے جہاں خلائی اجسام گرنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)سائنس دانوں نے زمین پر ایسے مقامات کی نشاندہی کی ہے جہاں ہمارے نظام شمسی سے باہر سے آنے والے خلائی اجسام کے ٹکرانے کا امکان زیادہ ہوسکتا ہے۔
نئی تحقیق میں ان اجسام کی ممکنہ رفتار اور زمین سے ٹکرانے کے زاویے وغیرہ کا حساب لگایا گیا ہے،رواں سال یکم جولائی کو دریافت ہونے والا پراسرار بین النجمی دُم دار ستارہ 3 آئی اٹلس پہلے ہی سائنس دانوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
اس سے پہلے بھی 2 بین النجمی اجسام— ’اوٗمواموا‘ (2017) اور بوریسوف (2019) ہمارے نظامِ شمسی کا دورہ کر چکے ہیں۔
اگرچہ ناسا نے تصدیق کی ہے کہ 3 آئی اٹلس زمین کے لیے کسی بھی خطرے کا باعث نہیں تاہم اگر مستقبل میں کوئی آئی ایس او زمین سے ٹکرائے تو سائنس دانوں نے اس بات کی نشاندہی کر دی ہے کہ کن خطوں کو زیادہ دھچکا لگ سکتا ہے۔
ایک حالیہ سائنٹیفک پیپر کے مطابق خط استوا کے قریب کے خطے بین النجمی اجسام کے تصادم کے لیے زیادہ حساس ہیں،تحقیق کے مطابق یہ مہمان اجسام کہکشاں کے دوسرے حصوں سے سفر کرتے ہیں اور زمین سے ٹکرانے کی صورت میں سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔
تحقیق کی قیادت مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی کے ڈیریل سیلگمین نے کی جنہوں نے کمپیوٹر سمیولیشنز کے ذریعےآئی ایس اوز کی ممکنہ حرکات اور راستے ماڈل کیے۔
مطالعے میں لکھا گیا ہے کہ اس تحقیق میں ہم زمین سے ٹکرانے والے بین النجمی اجسام کے متوقع مداری عناصر، زاویاتی سمتوں اور رفتاروں کا حساب لگاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :بھارت نے تین پاکستانی قیدیوں کو رہا کردیا