گرمی نے یورپ کو جھلسا دیا، متعدد ہلاکتیں

Jun 28, 2026 | 14:07:PM
گرمی نے یورپ کو جھلسا دیا، متعدد ہلاکتیں
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز) اسکینڈے نیویا سے لے کر الپس تک یورپ کا بڑا حصہ ہفتے کے روز شدید گرمی کی لپیٹ میں رہا، جہاں بعض علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا اور متعدد ممالک میں ہر وقت کے درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے.

 فرانس سمیت مختلف ممالک میں گرمی کی لہر کے باعث درجنوں افراد جان کی بازی ہار گئے۔

ہفتے کے روز جرمنی، ڈنمارک اور چیک جمہوریہ میں تاریخ کے بلند ترین درجہ حرارت کے ابتدائی ریکارڈ قائم ہوئے، جبکہ سوئٹزرلینڈ میں جون کے مہینے کا نیا ریکارڈ بنا۔

اس سے قبل رواں ہفتے فرانس اور برطانیہ بھی نئے درجہ حرارت کے ریکارڈ قائم کر چکے ہیں۔

 ماہرین موسمیات اور سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ غیر معمولی گرمی انسانوں کی پیدا کردہ موسمیاتی تبدیلی کے بغیر تقریباً ناممکن تھی۔

ان کے مطابق اس ہفتے رات کے اوقات میں ریکارڈ کی جانے والی شدید گرمی 2 دہائیاں قبل کے مقابلے میں 100 گنا زیادہ ممکن ہو چکی ہے۔

مزید پڑھیں:وینزویلا میں زلزلے سے 1430 ہلاکتیں ، 50 ہزار افراد لاپتا

جرمنی کی گرین پارٹی کی سابق پارلیمانی رہنما کترین گوئرنگ ایکارٹ نے کہا کہ یہ خوشگوار موسمِ گرما نہیں بلکہ صحت عامہ کا بحران ہے۔

ہیمبرگ میں درجہ حرارت 39 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے پر پولیس نے شہریوں کو ٹھنڈک پہنچانے کے لیے واٹر کینن کے ذریعے ہلکا پانی کا چھڑکاؤ کیا۔

جرمن محکمہ موسمیات کے مطابق مشرقی ریاست سیکسنی انہالٹ کے علاقے مویکرن-ڈریوٹز میں درجہ حرارت 41.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

جو ایک روز قبل قائم ہونے والے 41.3 ڈگری کے ریکارڈ سے بھی زیادہ ہے۔

 ڈنمارک کے محکمہ موسمیات نے شہر آروس کے شمال میں 37 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا، جو 1874 میں ریکارڈنگ شروع ہونے کے بعد ملک کا بلند ترین درجہ حرارت ہے۔

اسی طرح چیک جمہوریہ میں پراگ کے شمال میں 40.9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سلوواکیہ کے دارالحکومت براتسلاوا میں جمعہ کی رات ملکی تاریخ کی گرم ترین رات قرار دی گئی۔