پاکستان یکم اپریل 2022 کو اندرونی ڈیفالٹ ہوچکا تھا ، اب دنیا پاکستان کی معترف ہے، احسن اقبال
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ یکم اپریل 2022 کو اندرونی ڈیفالٹ ہوچکا تھا احسن اقبال ، اب پاکستان کی معیشت بحال ہو چکی ہے۔ عالمی ادارے پاکستان کی معیشت کے قصیدے پڑھ رہے ہیں۔ پوری دنیا پاکستان کی معترف ہے لیکن پاکستان کے اندر سے کچھ لوگ اس عالمی اعتراف کو پنکچر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حسن اقبال نے کہا، 2022 میں جب پی ٹی آئی کی حکومت تھی، معیشت اتنی خراب ہو گئی تھی کہ لوگوں کو ایل سیز کھولنے میں دشواری تھی۔ 2022 میں خزانے کو خالی کردیا گیا تھا۔ 50 ارب ڈالرز کا تجارتی خسارہ کیا گیا تھا۔
احسن اقبال نے کہا، یکم اپریل 2022 کو اندرونی ڈیفالٹ ہوچکا تھا ۔ خزانہ خالی ہو جانے کی وجہ سے وزارت خزانہ نے فنڈز جاری کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
احسن اقبال نے کہا، ہم نے اس وقت آ کر معیشت کو سنبھالا۔ معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے کڑوی گولیاں دیں۔ ہم دو سال میں مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے کم کرکے 2 فیصد پر لائے۔ شرح سود کو 23 فیصد سے کم کر کے 10.5 فیصد تک لائے۔
یہ بھی پڑھیئے: آسٹریلیا میں شدید گرمی، کئی علاقوں میں ٹمپریچر کے ریکارڈ ٹوٹ گئے
احسن اقبال نے کہا، ہماری کوششوں سے بین الاقوامی اداروں نے پاکستان کی ریٹنگ کو بہتر کیا۔ اب معیشت بحال ہو چکی ہے، عالمی ادارے پاکستان کی معیشت کے قصیدے پڑھ رہے ہیں۔ پوری دنیا پاکستان کی معترف ہے۔ لیکن پاکستان کے اندر سے کچھ لوگ اس اعتراف کو پنکچر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
احسن اقبال نے کہا، پچھلے دنوں آپ کی برادری کے ایک صاحب نے پریس کانفرنس کی۔ اس پریس کانفرنس سے ایسا لگا جیسے ملک میں کوئی غدر مچا ہوا ہے۔ مجھے نہیں معلوم ان کا کیا ایجنڈا تھا۔
احسن اقبال کی آج مختلف فورمز پر گفتگو
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے آج (28 جنوری 2026) مختلف فورمز پر اہم گفتگو کی ہے، جس کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
گوادر کی ترقی: گوادر میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ گوادر بندرگاہ کی صنعتی و تجارتی ترقی حکومت کی قومی ترجیح ہے اور یہ شہر عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے والا ایک اہم اسٹریٹجک مرکز بنتا جا رہا ہے۔
پاک-چین معدنی تعاون: احسن اقبال نے آج اسلام آباد میں پاک-چین منرل کوآپریشن فورم سے بھی خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی معدنی برآمدات کو رواں دہائی کے دوران 6 سے 8 ارب ڈالر تک لے جایا جا سکتا ہے، جس کے لیے چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کلیدی حیثیت رکھتی ہے.
برآمدات پر مبنی معیشت: احسن اقبال نے آج اسلام آباد میں ہی فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےنجی اور سرکاری شعبوں پر زور دیا کہ وہ پاکستان کو ایکسپورٹ لیڈ گروتھ (برآمدات پر مبنی ترقی) کی معیشت بنانے کے لیے مل کر کام کریں .
احسن اقبال نے کہا، پاکستان کو آئی ایم ایف سے نکالنے کے لیے ہمیں برآمدات کو بڑھانا ہوگا ۔ انہوں نے اپنا تخمینہ شئیر کرتے ہوئے کہا، اگلے پانچ سال میں 40 ارب ڈالرز کی اضافی برآمدات کرنا ہوگا۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ اگر ہم ویلیوایڈیشن کریں تو برآمدات کو کئی گنا بڑھا سکتے ہیں۔
سرمایہ کاری کا تحفظ: انہوں نے اعادہ کیا کہ چینی شہریوں اور ان کی سرمایہ کاری کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے تاکہ اقتصادی راہداری (CPEC) کے دوسرے مرحلے کو کامیابی سے ہمکنار کیا جا سکے .
پولیو کا خاتمہ: احسن اقبال نے آج اسلام آباد میں بل گیٹس فاؤنڈیشن کے وفد سے ملاقات میں ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے حکومتی اقدامات اور عزم کا بھی اظہار کیا .
یہ بھی پڑھیئے: گلگت بلتستان میں ہیلتھ کارڈ کے پینل پر موجود ہسپتالوں کی سروسز بہتر بنانے کی ضرورت ہے، وزیرصحت کا اعتراف