ہیئرٹرانسپلانٹ تصدیق شدہ اور قابل بھروسہ سرجن سے کرواناچاہیے؛ڈاکٹر انیل ریاض

مریض کو سب بتانا چاہیے کہ بال لگوانے کے بعد کیا پیچیدگیاں ہو سکتی ہیں ،مارننگ ودفضامیں گفتگو

Jan 28, 2026 | 15:28:PM
ہیئرٹرانسپلانٹ تصدیق شدہ اور قابل بھروسہ سرجن سے کرواناچاہیے؛ڈاکٹر انیل ریاض
کیپشن: ہیئرٹرانسپلانٹ سرجن ڈاکٹر انیل ریاض مارننگ ودفضامیں گفتگوکرتے ہوئے
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (24نیوز )پروگرام’’مارننگ ود فضا‘‘میں معروف ہیئر ٹرانسپلانٹ سرجن ڈاکٹر انیل ریاض نے شرکت کی اورہیئرٹرانسپلانٹ،اس کی تکنیک اورہیئرٹرانسپلانٹ کے بعد ہونےوالی پیچیدگیوں کے حوالے سے گفتگوکی۔
24نیوزکے پروگرام’’ مارننگ ود فضا‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف ہیئر ٹرانسپلانٹ سرجن ڈاکٹر انیل ریاض نے کہا کہ اگر سرجن  امریکن بورڈ آف ہیر ریسٹوریشن سرجری سے تصدیق شدہ ہے تو وہ قابلِ بھروسہ ہے اسکے علاقہ اعتماد نہیں کیا جا سکتا ۔
ڈاکٹر انیل ریاض نے کہاکہ  ترکی میں پاکستان سے بہتر ہیئر ٹرانسپلانٹ ہوتاہے، سرجری کی کہیں بہتر ایڈوانس تکنیک موجود ہے ، ترکش   تکنیک جیسی کوئی چیز نہیں ہے ،ایف یو ای کچھ نہیں ہے ،سفائز ایک بلیڈ ہے جس سے سوراخ بنانے ہیں، چائنیز طریقہ بھی کچھ نہیں ہے ۔
انہوں نے کہاکہ ہیئرریسٹوریشن سوسائٹی آف پاکستان یا انٹرنیشنل سوسائٹی آف ہیئر ریسٹوریشن   سرجنز پر لسٹ دیکھی جا سکتی ہے ، ترکی کا ایک نام ہے ، پاکستان 30 برس سے زائدعرصہ سے ہیئر ٹرانسپلانٹ کر رہا ہے ، ترکی میں تو حکومت نے ٹیکنیشن کو ٹرانسپلانٹ کی اجازت دے رکھی ہے جبکہ پاکستان میں یہ اجازت نہیں ہے ، یورپ میں یہ اجازت ہے حتیٰ کہ امریکا کینیڈا میں بھی جو کام ڈاکٹر  نے کرنا ہے وہ ٹیکنیشن کر رہے ہیں،پاکستان میں بھی کچھ کام جو ڈاکٹر کے ہیں ٹیکنیشن کر رہے ہیں جیسے پیچھے سے بال نکالنے کا کام ڈاکٹر کا ہے مگر زیادہ تر ڈاکٹر یہ کام ٹیکنیشن سے کرواتا ہے ۔
 ہیئر ٹرانسپلانٹ سرجن ڈاکٹر انیل ریاض  کے مطابق سرجری کے تین حصے ہیں، سر کے پچھلے حصے سے  جڑ سمیت بال نکالنا ، ڈرل مشین سے ہو یا سٹرپ سے ہو یہ ڈاکٹر کا کام ہے ، ٹیکنیشن کی تعلیم کچھ نہیں ہوتی ، مگر بے شمار کلینکس میں جہاں وہ ڈاکٹر کے نام پر کام کر رہے ہیں ، یہ تو ٹھیک ہے کہ میں جو سوراخ بنا رہا ہوں اس مین بال میرا ٹیکنیشن ڈال رہا ہے ، لیکن سورخ بنانا اور بال نکالنا ڈاکٹر کا کام ہے ، سرکے درمیان میں ہیئر فال ہو تو یہ  خیال  رکھیں کہ سب سے زیادہ فرنٹ کی اہمیت ہے پھر درمیان کی ، فرنٹ کے اوپر تقریباً دو سے اڑھائی ہزار گرافٹ لگانا پڑتا ہے ، سر میں ایک سوراخ میں تین چار بال اکٹھے ہوتے ہیں اس کو گرافٹ کہتے ہیں اسے لگانے کو ٹرانسپلانٹ کہتے ہیں ، اپنے سر میں کسی اور کا بال نہیں لگ سکتا ، داڑھی سے ٹانگ سے بھی بال نکالے جا سکتے ہیں ،خواتین لیزر سے پورے جسم سے بال نکال رہی ہوتی ہیں اور سر کے بال کم ہوتے ہیں ، کیا یہ بہتر نہیں کہ وہ بال سر پر استعمال کئے جائیں ، جسم پر کوئی نشان نہیں ہوتا،بال ضائع کرنے کی بجائے سر پر لگائے جا سکتے ہیں۔
 ہیئر ٹرانسپلانٹ سرجن ڈاکٹر انیل ریاض کے مطابق خواتین میں پی سی او کی وجہ سے بال گرتے ہیں ، ٹوٹکے بالوں کے لئے اچھے نہیں رہتے ، وٹامن ڈی ، آئرن ، تھائیرائیڈ  ہے ، مرد گنجا وراثتی  وجوہات کی وجہ سے ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سندھ میں عازمین حج کی تربیت کے پہلے مرحلے کا آغاز
، پیچھے سے بال نکالتے ہوئے دانے کیوں نکلتے ہیں ؟اس پر  ہیئر ٹرانسپلانٹ سرجن نے انیل ریاض کا کہنا تھا کہ سات دن تک اگر انفیکشن ہو تو یہ تھیٹر انفیکشن ہوسکتا ہے ، جو اگلے دن ہی انفیکشن بنے یہ  پہلے سے انفیکشن ہوتا ہے ، مریض کو سب بتانا چاہیے کہ بال لگوانے کے بعد کیا پیچیدگیاں ہو سکتی ہیں ، ٹرانسپلانٹ کرانے کیلئے سگریٹ چھوڑنے کا پرہیز ایک ہفتے سے چھ ہفتے تک ہوسکتا ہے ۔