پاکستان ایران کے ساتھ یکجہتی کرے، غزہ بورڈ آف پیس سے الگ ہو، عامہ ناصر عباس
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) علامہ راجا ناصر عباس نے ایک بار پھر پاکستان کی قومی پالیسی کی مخالفت کر دی اور پاکستان سے غزہ بورڈ آف پیس سے الگ ہونے کا مطالبہ کر دیا۔ انہوں نے پاکستان سے ایران کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کا بھی مطالبہ کیا۔
اپوزیشن اتحاد اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں مصطفیٰ نواز کھوکھر اور راجا ناصر عباس نے آج مطالبہ کیا کہ حکومت غزہ بورڈ آف پیس سے علیحدہ ہوکر ایران کے ساتھ اظہار یکجہتی کرے۔
انہوں نے کہا ، امریکہ اور اسرائیل کا اگلا ہدف پاکستان ہوگا۔ دونوں ملک ایران میں ریجیم چینج کرنا چاہتے ہیں۔
اپوزیشن اتحاد (تحریک تحفظ آئین پاکستان) کے رہنما اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس نے آج ایران پر حملے کی شدید مذمت کی۔
سینیت میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس، ان کی جماعتت مجلسِ وحدت ( ایم ڈبلیو ایم) کے رہنمائوں نے مصطفی نواز کھوکھر، کے ساتھ اسلام آباد میں ہفتے کی شام پریس کانفرنس کی۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ آج اسرائیل اور امریکہ نے دنیا اور پورے خطے کو خطرے میں ڈال دیا۔ دونوں ممالک نے ملکر ایران پر حملہ کیا اور یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب مذاکرات جاری تھے۔
علامہ راجا ناصر عباس نے کہا ایران اور امریکہ کے درمیان جنیوا میں بات چیت کا تیسرا مرحلہ چل رہا تھا مگر دو ایٹمی طاقتوں نے حملہ کردیا، امریکہ ہزاروں کلومیٹر دور سے آیا، فورسز کی اتنی بڑی موبلائزیشن ورلڈ واڑ ٹو کے بعد نہیں ہوئی۔
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ خدانخواستہ اگر ایران کو کچھ ہو جاتا ہے تو پھر پاکستان کی بھی خیر نہیں اور پورا خطہ ٹوٹ جائے گا۔
یہ بھی پڑھیئے: پاکستان سری لنکا سے جیت کر بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے باہر
علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ ایران کی زمینی، بحری اور فضائی حدود میں داخل ہو، دوسرا انسانی مسئلہ بھی ہے، لوگ مارے جارہے ہیں، بچیوں کے سکول پر حملہ کیا گیا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کے اقدامات سے پاکستان کی سالمیت اور پوری مسلم امت کو خطرہ ہے۔ سب سے پہلے ہم اس کی مذمت کرتے ہیں، یہ عمل کسی بھی طرح سے قابل قبول نہیں ہے۔ ہر ایک کی ذمہ داری ہے کہ اس کے خلاف کھڑا ہو۔ اگر ان ظالموں کا مقابلہ شروع ہو جائے تو یہ کبھی جرات نہ کریں۔ مسلم امت کو حق ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل پر حملہ کریں، جہاں بھی ان کے فوجی ہیں وہاں حملہ کریں۔
ناصر عباس نے کہا، اس جنگ کے اثرات صدیوں رہیں گے، امریکہ اور اسرائیل کو شکسست ہو گی۔
افغانستان کے ساتھ جنگ بند کر کے "ڈائیلاگ کرنے کا بھی مطالبہ
علامہ راجا ناصر عباس نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ پاکستان کو افغانستان کے ساتھ جنگ فوراً بند کرنی چاہیے اور ڈائیلاگ کرنا چاہیے۔
مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ عالمی سیاست اور اس کے پاکستان پر اثرات کے حوالے سے علامہ ناصر عباس کی حمایت کرتا ہوں، ایران پر حملے کی مذمت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بورڈ آف پیس والے معاملے کو دیکھ لیں، کیا وہ معاملہ کابینہ میں اور پارلیمنٹ میں ڈسکس نہیں ہوا۔ ہم لوگ اس میں بلا سوچے سمجھے شامل ہو گئے، ہمارا اہم ترین اتحادی چین اس میں شامل نہیں ہوا۔ یہ بورڈ آف پیس آج کہاں کھڑا ہے۔ اس کو اقوام متحدہ کے متبادل پلیٹ فارم کے تحت تیار کیا جا رہا ہے۔
حکومت پاکستان کو ایران کے ساتھ یکجہتی کرتے ہوئے بورڈ آف پیس سے الگ ہو جانا چاہیے۔
مصطفی نواز کھوکھر نے مزید کہا کہ آج ہمیں اپنے اختلافات بھلا کر ایک ہونے کی ضرورت ہے، ہمارے اختلافات اتنے بڑے ہیں بھی نہیں، ہم ایران پر حملے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیئے: صورتحال کشیدہ:ایران کے یو اے ای، ابوظہبی، قطر، کویت ،ریاض اور بحرین میں امریکی ائیربیسز پر حملے