زیلنسکی کی ٹرمپ سے اہم ملاقات؛ یوکرین امن منصوبے پر حمایت حاصل کرنے کا ارادہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
( ویب ڈیسک )یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے، جہاں وہ روس کے ساتھ تقریباً چار سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کیے گئے نئے امن منصوبے پر امریکی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔
20 نکات پر مشتمل یہ منصوبہ امریکا اور یوکرین کے درمیان کئی ہفتوں کی مشاورت کے بعد سامنے آیا ہے، تاہم روس نے تاحال اس کی منظوری نہیں دی۔ یہ ملاقات ایسے وقت ہو رہی ہے جب روس نے کیف پر میزائلوں اور ڈرونز سے بڑے پیمانے پر حملہ کیا، جس سے شہر اور اس کے گرد و نواح میں بجلی اور حرارت کی فراہمی متاثر ہوئی۔
زیلنسکی اور ٹرمپ کی یہ ملاقات فلوریڈا میں ٹرمپ کی رہائش گاہ مار-اے-لاگو میں ہوگی، جو اکتوبر کے بعد دونوں رہنماؤں کی پہلی بالمشافہ ملاقات ہے۔ اس سے قبل ٹرمپ نے زیلنسکی کی جانب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ٹوماہاک میزائلوں کی درخواست مسترد کر دی تھی۔
کینیڈا کے دورے کے دوران زیلنسکی نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ٹرمپ کے ساتھ بات چیت “انتہائی تعمیری” ثابت ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ کیف پر تازہ روسی حملے نے واضح کر دیا ہے کہ صدر ولادیمیر پوتن امن نہیں چاہتے۔
زیلنسکی نے کینیڈا میں یورپی رہنماؤں کے ساتھ ویڈیو کانفرنس بھی کی، جہاں جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے مطابق یورپی ممالک نے یوکرین کی امن کوششوں کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ یورپی یونین کی قیادت نے بھی کریملن پر دباؤ برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں:افسوسناک خبر! موٹر سائیکل پر بیٹھی، بچی کو گلے پر ڈور پھر گئی
روس نے یوکرین اور اس کے یورپی اتحادیوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ امریکا کی ثالثی میں پیش کیے گئے ایک سابقہ امن منصوبے کو سبوتاژ کر رہے ہیں۔ دوسری جانب ٹرمپ نے نئے امن منصوبے پر تاحال حتمی مؤقف اختیار نہیں کیا اور کہا ہے کہ ان کی منظوری کے بغیر کوئی پیش رفت ممکن نہیں۔
مجوزہ منصوبے کے تحت جنگ موجودہ محاذوں پر روکنے، مشرقی یوکرین میں افواج کی جزوی واپسی اور غیر فوجی بفر زونز کے قیام پر غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم اس میں یوکرین کے اس حصے سے انخلا شامل نہیں جو اب بھی دونیتسک کے تقریباً 20 فیصد علاقے پر مشتمل ہے۔
زیلنسکی نے واضح کیا ہے کہ امن معاہدے کے ساتھ مضبوط سیکیورٹی ضمانتیں ناگزیر ہیں تاکہ مستقبل میں روسی جارحیت کو روکا جا سکے۔ یوکرین مزید مالی اور عسکری امداد، بالخصوص ڈرون ٹیکنالوجی میں تعاون کا بھی مطالبہ کر رہا ہے۔
کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی نے زیلنسکی سے ملاقات کے بعد یوکرین کی تعمیر نو کے لیے 2.5 ارب کینیڈین ڈالر کی اضافی معاشی امداد کا اعلان کیا ہے۔