خطرناک بیماریوں کے امکان میں کمی,7ہزار قدم چلنے کا سوال!
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز) روزانہ 7000 قدم چلنا آپ کے دماغ کو طاقت دینے اور آپ کو مختلف قسم کی بیماریوں سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، یہ شاید عملی طور پر روزانہ 10 ہزار قدم کے ٹارگٹ کی نسبت زیادہ آسان ہے جسے ایک معیار کے طور پر جانا جاتا ہے۔
یہ تحقیق لانسٹ پبلک ہیلتھ کی جانب سے شائع ہوئی ہے۔ یہ تعداد صحت کے خطرناک مسائل بشمول کینسر، ڈمینشیا اور دل کے امراض کے خطرے کو کم کرتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج زیادہ لوگوں کی حوصلہ افزائی کر سکتے ہیں کہ وہ اپنی صحت کی بہتری کے لیے عملی طور پر یہ ریکارڈ رکھیں کہ وہ روزانہ کتنے قدم چلتے ہیں، ڈاکٹر میلوڈی ڈنگ کہتی ہیں کہ ہمارا خیال یہ ہوتا ہے کہ ہمیں 10 ہزار قدم اٹھانے چاہییں لیکن یہ کسی ثبوت پر مبنی سوچ نہیں ہے۔
10 ہزار قدم تقریباً پانچ میل یا آٹھ کلو میٹر کے فاصلے تک چل کر بنتے ہیں۔ مگردرست فاصلہ ہر ایک کے لیے مختلف ہوگا یعنی دو قدموں کے درمیان کی لمبائی جو کہ ہر کسی کے قد، جنس اور چلنے کی رفتار پر منحصر ہوتی ہے اور جو لوگ تیز چلتے ہیں ان کے دو قدموں کا فاصلہ بھی لمبا ہوتا ہے۔
10 ہزار قدم کی اصطلاح کو تاریخ میں دیکھیں تو یہ 1960 میں جاپان میں مارکیٹنگ مہم میں بھی استعمال ہوئی۔ 1964 کے ٹوکیو اولمپکس سے پہلے ایک برانڈ نےقدموں کا شمار رکھنے والی مشین یعنی پیڈومیٹر کو متعارف کروایا اس کا نام ’پانپوکی‘ تھا جس کا ترجمہ ہے 10 ہزار قدم۔
ڈاکٹر ڈنگ کا کہنا ہے کہ ان اعداد و شمار کو سیاق و سباق سے ہٹ کر لیا گیا ہے اور یہ غیر سرکاری طور پر ایک گائیڈ لائن بن چکی ہے اور بہت سی فٹنس ایپس اب بھی ان تجاویز کا پرچار کر رہی ہیں۔
لانسٹ کی تحقیق میں صحت اور جسمانی سرگرمیوں کے سے متعلق سابقہ ریسرچز اور ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا جس میں 160,000 بالغوں کو پوری دنیا سےشامل کیا گیا تھا۔
جو لوگ 2000 قدم ایک دن میں چلتے ہیں ان کا 7000 قدم چلنے والوں سے موازنہ کیا گیا تو سامنے آیا کہ سات ہزار قدم اٹھایا جانا بہت سی بیماریوں کے امکانات کو کم کرتا ہے۔ مثال کے طور ہر
دل کا مرض: 25 فیصد کمی
کینسر: چھ فیصد کمی
ڈمینشیا: 38 فیصد کمی
ڈپریشن 22 فیصد کمی
تاہم پھر بھی ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ اعدادوشمار دیگر کی نسبت کم درست بھی ہو سکتے ہیں کیونکہ انھیں بہت چھوٹے پیمانے پر کی گئی تحقیقات سے لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ملک بھرمیں مون سون کانیاسپیل،محکمہ موسمیات نے خطرے کی گھنٹی بجادی