ملائیشیا میں کرپشن کے الزامات سامنے آنے پر آرمی چیف کو رخصت پر بھیج دیا گیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) ملائیشیا میں کرپشن کے الزامات سامنے آنے پر آرمی چیف کو رخصت پر بھیج دیا گیا؛ ملائشیا کے حکا م نے آرمی کےسربعراہ کے کرپشن میں ملوث ہونے کے الزامات کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔
ابتدائی چھان بین میں یہ بات سامنے آئی کہ چند کمپنیاں بار بار اعلیٰ مالیت کے ٹھیکے حاصل کر رہی تھیں جس پر تفتیشی افسران نے خدشات کا اظہار کیا۔ ابتدائی چھان بین کے دوران 5 لاکھ رنگٹ کے لگ بھگ مالیت کے 158 منصوبوں اور اس سے کم مالیت کے 4,521 منصوبوں میں خرد برد سامنے آئی۔ ملائشین مسلح افواج،
میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹھیکوں کی تحقیقات کے آغاز میں ملائیشیا کی آرمی کے سربراہ جنرل تن سری محمد حافظ الدین جنتن کو جبری رخصت پر بھیج دیا گیا۔ وہ الزامات کی تحقیقات مکمل ہونے تک رخصت پر رہیں گے.
ایک خبر رساں ادارے کے مطابق ملائیشیا کی وزارتِ دفاع نے آرمی چیف جنرل تن سری محمد حافظ الدین جنتن کو فوری طور پر رخصت پر بھیجنے کی ہدایت اس وقت جاری کی جب فوج کے حوالے سے بہت سے ٹھیکے بار بار کچھ خاص فرموں کو ملنے کے شواہد سامنے آئے اور ان معاملات میں خورد برد کے بھ یکچھ شواہد سامنے آئے۔
ملائشیا کے مقامی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ یہ معاملہ تب شروع ہوا جب سماجی کارکن بدر الحشام شہران المعروف چیگو برد نے مسلح افواج کے ایک سینئر افسر پر منی لانڈرنگ کے الزامات عائد کیے۔اس کے بعد ملائیشین اینٹی کرپشن کمیشن (ایم اے سی سی) کے سربراہ تن سری اعظم باقی نے تصدیق کی کہ ایکٹ 2009 کی دفعہ 17(a) کے تحت تحقیقات جاری ہیں۔
ایم اے سی سی کے افسروں نے فوج کے تحت ہونے والے پروکیورمنٹ منصوبوں کے ٹھیکوں خصوصاً اوپن ٹینڈر کے ذریعے دیئے گئے ٹھیکوں کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کی۔
جانچ پڑتال میں سال 2023 سے 2025 کے درمیان 5 لاکھ رنگٹ سے زائد مالیت کے 158 ٹھیکے اور اس حد سے کم مالیت کے 4,521 ٹھیکے سامنے آئے ہیں۔
اینتی کرپشن حکام نے 24 دسمبر تک تین اعلیٰ فوجی افسروں سے پوچھ گچھ کی اور ان کے بیانات ریکارڈ کیے تاکہ تحقیقات میں مدد مل سکے۔
ملائشین میڈیا کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور متعلقہ حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس معاملے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ چھان بین کی جائے گی۔
رخصت پر بھیجے جانے کی وجہ کی وضاحت
تازہ پیشرفت میں ملائشیا کے وزارت دفاع داتوک سری محمد خالد نوردین نے کہا ہے کہ آرمی چیف کو جبری رخصت پر اس لیے بھیجا گیا تاکہ منی لانڈرنگ سے متعلق ان پر عائد الزامات کی تحقیقات بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل کی جا سکیں۔
وزیرِ دفاع داتوک سری محمد خالد نوردین نے کہا کہ یہ انتظامی اقدام "مفادات کے ٹکراؤ" (Conflict of interest)سے بچنے اور تحقیقات کے شفاف اور مؤثر انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
ملائیشین مسلح افواج کا نیا قائم مقام سربراہ
اسی دوران ایک الگ پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ جنرل تن سری محمد نظام جعفر کی ریٹائرمنٹ کے بعد نیوی کمانڈر ایڈمرل تن سری ذوالحلمی اثنین کو فوری طور پر ملائیشین مسلح افواج کا قائم مقام سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے۔
وزارتِ دفاع نے جنرل محمد نظام جعفر کی خدمات، قیادت اور مدتِ ملازمت کے دوران دی گئی اہم شراکتوں پر ان کا شکریہ ادا کیا اور ان کی ریٹائرمنٹ کے معاملات کی خوش اسلوبی سے تکمیل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔