سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری، 2 جوان شہید ہوئے: ڈی جی آئی ایس پی آر
میڈیکل کیمپوں میں 20 ہزار سے زائد لوگوں کو سہولت فراہم کی گئی، سیلاب متاثرین میں 225 ٹن راشن تقسیم کیا جا چکا ہے،مشکل کی گھڑی پاک فوج کے افسران اور جوان امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں، کوئی بھی باطل قوت عوام اور افواج پاکستان کے درمیان دراڑ نہیں ڈال سکتی: لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ کرتارپور میں کشتیوں کے ذریعے بڑا ریسکیو آپریشن جاری ہے،امدادی سرگرمیوں کے دوران 2 جوان شہید، 2 زخمی ہوئے۔
وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ اور چیئرمین این ڈی ایم اے کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ میڈیکل کیمپوں میں 20 ہزار سے زائد لوگوں کو سہولت فراہم کی گئی، سیلاب متاثرین میں 225 ٹن راشن تقسیم کیا جا چکا ہے،سیلاب زدہ علاقوں میں کوئی پوسٹ خالی نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں پلوں اورشاہراہوں کی بحالی کا کام مکمل کیا گیا، خیبرپختونخوا کے تمام روڈ کلیئرکئے جا چکے ہیں، کرتارپور میں کشتیوں کے ذریعے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مشکلات کا شکار خیبرپختونخوا کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، گلگت بلتستان میں بھی ایئر ریلیف آپریشن جاری ہے، شاہراہ قراقرم کھول دی گئی ہے، غذرکی شاہراہوں کی بحالی کا کام جاری ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ پاک فوج کا ان حالات میں بھی خارجیوں کے خلاف آپریشن جاری ہے، تاکہ وہ کسی صورت حال کا فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ پاک فوج نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں 29 میڈیکل کیمپس قائم کیے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ مشکل کی گھڑی پاک فوج کے افسران اور جوان امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں، کوئی بھی باطل قوت عوام اور افواج پاکستان کے درمیان دراڑ نہیں ڈال سکتی۔