بلوچستان اسمبلی اجلاس میں 30منٹس کی تاخیر،3قراردادیں پیش،2 منظور

Sep 26, 2025 | 21:09:PM
بلوچستان اسمبلی اجلاس میں 30منٹس کی تاخیر،3قراردادیں پیش،2 منظور
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

  (عیسیٰ ترین)بلوچستان اسمبلی کاآج ہونیوالا اجلاس اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی صدارت میں  30منٹس کی تاخیرسے شروع ہوا۔صوبائی اسمبلی کے اجلاس کے ایجندے میں توجہ دلاؤ نوٹس، 3غیر سرکاری قراردادیں  اور وقفہ سوالات شامل تھے۔بلوچستان اسمبلی میں نوکنڈی تاماشکیل 102کلومیٹر روڈجلد تعمیر کرنے کی، بلوچستان لینڈ ریکارڈ اینڈ منیجمنٹ اتھارٹی کے نام سے نیا قانون بنانے  اور  گوادر کو میرانی ڈیم سے پانی فراہم کرنے کی قرارداد پیش کی گئیں۔

تفصیلات کے مطابق رکن صوبائی زابد علی ریکی نے  نوکنڈی تاماشکیل 102کلومیٹر روڈجلد تعمیر کرنے کی قرارداد پیش کی ، جس میں کہا گیا کہ مسلمہ حقیقت ہے کہ بلوچستان رقبہ کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، صوبے میں آمد ورفت کے لئے پختہ شاہرا ہیں نہ ہونے کے برابر ہے،پختہ سڑکیں نہ ہونے  سے علاقے کے لوگوں کو آمد و رفت میں سخت مشکلات کا سامنا ہے، یہ منصوبہ  وفاقی حکومت نے سال 2020 میں شروع کیا اور پانچ سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود روڈ پر کام کی رفتار ست روی کا شکار ہے اور  تکمیل کو نہیں پہنچا ہے۔ بحث کے بعد صوبائی اسمبلی نے نوکنڈی تاماشکیل 102کلومیٹر روڈجلد تعمیر کرنے کی قرار داد منظور کرلی۔
رکن صوبائی اسمبلی شاہدہ روف نے بلوچستان لینڈ ریکارڈ اینڈ منیجمنٹ اتھارٹی کے نام سے نیا قانون بنانے کی قرارداد پیش کی ، جس میں کہا گیا کہ بلوچستان ریونیو ایکٹ 1967 جو کہ بہت پرانا ہو چکا ہے ،قموجودہ نظام میں  پٹوار اور ریونیو آفسران کے لامحدود اختیارات عوامی مشکلات ، بدامنی اور زمینوں کے تنازعات کا باعث بنتے ہیں ،اس کے برعکس ملک کے دیگر صوبوں نے اپنے تمام لینڈ ریکارڈ کو Digitalize کر کے عوام کو شفافیات، آسانی اور انصاف فراہم کر رہے ہیں ،ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ بلوچستان لینڈ ریونیوا ایکٹ 1967ء کا جامع جائزہ لیا جائے ،بلوچستان لینڈ ریکارڈ اینڈ مینجمنٹ اٹھارٹی" کے نام سے ایک نیا قانون بنایا جائے۔

رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے  گوادر کو میرانی ڈیم سے پانی فراہم کرنے کی قراردادپیش کی،جس میں کہا گیا تھا کہ افسوس کی بات ہے کہ گوادر میں گذشتہ کئی سالوں سے اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود گوادر کے باسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں،گذشتہ کئی سالوں سے 18 ارب روپے کے قریب پانی پر اخراجات کے باوجود پانی کی فراہمی کا کوئی مستقل حل تلاش نہیں کیا گیا ہے،یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ ضلع گوادر کے عوام کو میرانی ڈیم سے پانی فراہم کیا جائے ۔ تا کہ ضلع گوادر کے عوام کا  پانی کا مسئلہ حل ہوسکے ۔ اس قرارداد کو بھی منظور کرلیا۔ اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے پٹ فیڈرکینال کے پی ڈی کو طلب کرلیا۔بلوچستان اسمبلی کااجلاس 29ستمبر سہ پہر 3 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:سابقہ شوہر سے ناچاقی،دوسرے خاوند سے ملکر سگی ماں نے اپنےبیٹے کو قتل کر دیا