27ویں ترمیم سے کچھ بہتر نہیں ہوگا، افغان حکومت جھوٹ بولنے پر مجبور ہو چکی:سلیم بخاری

Nov 26, 2025 | 00:33:AM
27ویں ترمیم سے کچھ بہتر نہیں ہوگا، افغان حکومت جھوٹ بولنے پر مجبور ہو چکی:سلیم بخاری
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(فرخ احمد)معروف صحافی و تجزیہ کار سلیم بخاری نے کہا ہے کہ افغان حکومت اب جھوٹ کا سہارا لینے لگ گئی ہے، اور قیام امن کے لیے کسی بھی معاہدے سے انکاری ہے۔

’’24 نیوز‘‘ کے مقبول پروگرام سلیم بخاری شو میں اظہار رائے کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ فغان حکومت ایک اسلامی حکومت ہے اور وہ جھوٹ نہیں بول سکتے، لیکن جب سے تلخیاں بڑھی ہیں اور دہشتگردی کے واقعات شروع ہوئے ہیں وہ ضرورت پڑنے پر اکثر جھوٹ بولتے ہیں۔وہ چاہے جو مذاکرات قطر میں ہوئےیا ترکیہ میں ہوئے انہوں نے ایک کے بعد دوسری اور تیسری پوزیشن تبدیل کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کا صرف یہ کہنا تھا کہ آپ تسلیم کریں کہ آپ کی سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے، دوسرا آپ یہ تسلیم کریں کہ ٹی ٹی پی کو وہاں سے سہولت کاری ہو رہی ہے اور اس بات کا اقرار کریں کہ آپ آئندہ کسی قسم کی سہولت کاری نہیں کریں گے۔

سلیم بخاری نے کہا کہ یہ انتہائی مناسب مطالبات ہیں جن کو بہت آسانی سے تسلیم کیا جانا چاہئے لیکن انہوں نے کسی بھی لکھے ہوئے معاہدے سے صاف انکار کر دیا ہے، لکھ کر نہ دینے کی وجہ وہ تنظیمیں ہیں جنہوں نے افغان حکومت کے قیام کے لیے ایک لمبا سفر طے کیا ہو، وہ کیسے اس کو انڈیپینڈنٹ فیصلہ کرنے دے سکتے ہیں۔

صحافی و اینکرپرسن نے کہا کہ پاک فوج نے صاف کہہ دیا ہے کہ وہ ہم جب حملہ کرتے ہیں تو اس کا کھلم کھلا اعلان کرتے ہیں۔ جب اکتوبر میں حملہ کیا تھا تو سب کو بتایا تھا۔مزید یہ کہ پاکستان کبھی سویلین پر حملہ نہیں کرتا، ہم ریاست ہیں، ریاست کے طور پر ہی ردعمل دیتے ہیں، خون اور تجارت ایک ساتھ نہیں چل سکتے، یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم پرحملے بھی ہوں اور ہم تجارت بھی کریں، ہم افغان عوام کے نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف ہیں۔

سلیم بخاری نے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم سے نہ دستور میں بہتری آئے گی نہ عوامی مفاد کا تقاضا پورا کرے گی، 27 ویں آئینی ترمیم کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں، حکومت عدلیہ کو مکمل طور پر اپنے پنجے کے نیچے رکھنا چاہتی ہے۔

 اس پر بخاری صاحب نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ کے اوراق اُلٹنے سے کسی بھی بیان کی صداقت یا حقیقت کا پتا چلتا ہے۔26ویں آئینی ترمیم پر مولانا کا جو ری ایکشن تھا وہ اس سے بھی سخت تھا لیکن بالآخر ووٹ کس کو دیا تھا۔26ویں آئینی ترمیم کو جبکہ ان کے ووٹ کے بغیر وہ ترمیم پاس ہی نہیں ہو سکتی تھی۔

مولانا سیاست کے بہت اچھے کھلاڑی ہیں انہوں نے پیپلز پارٹی پر تنقید اور شکوہ کا حق کا دعویٰ کیا ہے، بخاری صاحب نے کہا کہ سیاست میں دوستانہ شکوہ کیا ہوتا ہے۔

سیاست میں یا تو آپ اس پار یا اُس پار ہوتے ہیں اگر انہوں نے اس ترمیم کو نہیں ہونے دینا تھا تو وہ بنگلہ دیش کے دورے پر نہ جاتے،یہ ساری موو کا لب لباب یہ ہے مولانا پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن اور اسٹیبلشمنٹ سے ناراض ہیں۔

مصر مذاکرات اور غزہ میں ٹیکنوکریٹ حکومت کے قیام پر رائے دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ سب سے بڑی خواہش اسرائیل کی ہے کہ حماس کو غیر مسلح کیا جائے تاکہ اس کو تباہ کرنا آسان ہو جائے، اس سازش میں تمام مسلمان ممالک امریکہ اور مغربی ممالک شامل ہیں جتنے بھی ثالث ہیں وہ یہ کوشش کر رہے ہیں کہ کچھ ایسا ہو جائے کہ امریکہ اور اسرائیل کا ایجنڈا پورا ہو جائے۔

انہوں نے کہا کہ سب سے بڑی شرط جو طے تھی دو ریاستوں کا قیام کہاں ہے فلسطین، کہیں زکر ہی نہیں ہے تو کیسے یہ توقع رکھی جا سکتی ہے کہ حماس اس معاہدے کا حصہ بن جائے گی، کبھی بھی نہیں بنے گی۔اس سوال کے جواب  میں کہ اگر حماس غیر مسلح نہیں ہوتی تو کیا ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ پھر حماس گوریلا وار کی طرف جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :بلوچستان کے ضلع قلات میں زلزلہ، لوگوں میں خوف و ہراس