کراچی میں تین سالہ بچی کے ساتھ کیا ہوا، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ہولناک انکشافات سامنے آگئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) ریپ کے بعد قتل ہونے والی 3 سالہ معصوم کلثوم کے پوسٹ مارٹم کے بعد پولیس سرجن کے ہولناک انکشافات سامنے آ گئے۔
کراچی کے علاقہ ملیر قائد آباد میں ریپ کے بعد قتل ہونے والی 3سالہ بچی کے پوسٹ مارٹم کے بعد پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ نے بتایا کہ بچی کے منہ اور ناک سے جھاگ نکل رہا تھا۔ یہ کیس بدترین اور سفاکانہ زیادتی کی مثال ہے۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد پولیس نے برق رفتار کارروائی کی اور 13 مشتبہ افراد کے ڈی این اے سیمپل حاصل کرلئے۔
پولیس ذرائع کے مطابق کراچی کے علاقے قائد آباد میں قتل کی جانے والی 3 سال کی بچی کے پوسٹ مارٹم میں ریپ اور بدترین تشدد کی تصدیق ہوگئی۔
پولیس حکام کے مطابق مقتولہ کے قریبی رشتے داروں اور محلے داروں کے ڈی این اے سیمپلز لئے گئے ہیں، جنہیں ٹیسٹ کیلئے لیبارٹری بھیج دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ
اب ڈی این اےٹیسٹ رپورٹ آنے کے بعد تفتیش آگے بڑھے گی۔ پولیس نے 5 مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا تھا تاہم ان سب سے تفتیش کے بعد 2 افراد کو رہا کر دیا گیا۔ معصوم بچی کے قتل کا مقدمہ تھانہ قائد آباد میں بچی کے والد کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے جس میں اغوا، زیادتی اور قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
بچی کے والد نے ایف آئی آر کی درخواست میں کہا کہ ان کی بیٹی گھر سے باہر گئی اور واپس نہیں آئی تو اہلیہ نے ان کو فون پر کال کی، بچی کو تلاش کیا لیکن کچھ پتہ نہیں چل سکا۔
بچی کے والد نے بتایا کہ رات کو گھر پہنچے تو محلے میں ہجوم تھا، محلے والوں نے بتایا کہ کوئی نامعلوم شخص بیٹی کی لاش بوری میں پھینک کر چلا گیا ہے۔بچی کے دادا نے تصدیق کی کہ لاش ان کی پوتی کلثوم کی ہی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات میں شہریوں کو ڈیفینس وارننگ کے غلط الرٹ مل گئے