جان ایف کینیڈی کا  قتل،تعلق اسرائیلی جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کی مخالفت ہو سکتا ہے،امریکی کانگریس رکن

Jun 26, 2025 | 23:06:PM
جان ایف کینیڈی کا  قتل،تعلق اسرائیلی جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کی مخالفت ہو سکتا ہے،امریکی کانگریس رکن
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب رپورٹ) امریکی کانگریس کی رکن مارجوری ٹیلر گرین نے کہا ہے کہ سابق امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے قتل کا تعلق اسرائیل کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کی مخالفت سے ہو سکتا ہے، انہوں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا اب انکی یا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زندگی کو بھی اسی طرح کے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ صرف حکومت کی تبدیلی، غیر ملکی جنگوں، اور فوجی صنعت کے منافع کے لیے امریکی فوجی مارے گئے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مارجوری ٹیلر گرین نے لکھا ہے  کہ “کینیڈی ایک عظیم صدر تھے جنہیں امریکی عوام میں بڑی مقبولیت حاصل تھی۔ انہوں نے اسرائیل کے جوہری پروگرام کی مخالفت کی ، اور پھر انہیں قتل کر دیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کیا مجھے اب یہ محسوس کرنا چاہیے کہ میری زندگی خطرے میں ہے؟ اور صدر ٹرمپ کے بارے میں کیا خیال ہے جنہوں نے آج صبح ایران پر حملے جاری رکھنے پر اسرائیل کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے؟۔ان کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب ٹرمپ نے اسرائیل کو ایران پر مزید فضائی حملے کرنے سے خبردار کیا اور اسے جنگ بندی معاہدے  کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔مارجوری ٹیلر گرین نے ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حالیہ امریکی فوجی حملوں پر بھی تنقید کی ہے اور ان جنگوں کو  غیر ملکی مفادات کے لیے نہ ختم ہونے والی جنگیں قرار دیا ہے۔انہوں نے ایک الگ پوسٹ میں لکھا ہے کہ  صرف حکومت کی تبدیلی، غیر ملکی جنگوں، اور فوجی صنعت کے منافع کے لیے امریکی فوجی مارے گئے ہیں اور جسمانی و ذہنی طور پر ہمیشہ کے لیے تباہ ہو چکے ہیں ۔ میں اس چیز سے تنگ آ چکی ہوں۔

واضح رہے کہ اپنی صدارت کے دوران کینیڈی نے اسرائیل کی جوہری خواہشات پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ 1963 میں، انہوں نے اس وقت کے وزیر اعظم داود بن گوریون پر زور دیا کہ وہ ڈیمونا جوہری تنصیب کے بارے میں شفافیت اختیار کریں اور خبردار کیا کہ مسلسل راز داری امریکی حمایت کو سنگین خطرے میں ڈال سکتی ہے۔تاہم اس تنازعے کو کینیڈی کے قتل سے جوڑنے کے لیے کوئی عوامی طور پر تصدیق شدہ شواہد موجود نہیں ہیں۔گرین کے بیانات کو سیاسی مخالفین اور تجزیہ کاروں کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔