روزہ رسول ﷺ پرحاضری کیلئےوفد سرکاری خرچ پر بھجوایاجائے؛مذہبی امور کمیٹی کی سفارش

Jan 26, 2026 | 20:25:PM
روزہ رسول ﷺ پرحاضری کیلئےوفد سرکاری خرچ پر بھجوایاجائے؛مذہبی امور کمیٹی کی سفارش
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور نے سفارش کی ہے کہ روزۂ رسول ﷺ پر حاضری کے لیے پارلیمانی وفد کو سرکاری خرچ پر مدینہ منورہ بھجوایا جائے  جو پاکستانی عوام کی جانب سے درود و سلام پیش کرے گا۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بتایا گیا کہ اس سے قبل بھی پارلیمانی وفد پاکستانی عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے روزۂ رسول ﷺ پر سلام پیش کرنے جا چکا ہے۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ یہ وفد ہر برس مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کا دورہ کرے اور عوام کی جانب سے مکہ مکرمہ میں عمرہ بھی ادا کرے۔

کمیٹی کے مطابق وفد میں شامل ارکان کے اہلِ خانہ بھی ہمراہ جا سکیں گے تاہم اہلِ خانہ یا دیگر رشتہ داروں کے اخراجات خود برداشت کرنا ہوں گے۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ سرکاری اخراجات صرف وفد کے ارکان تک محدود ہوں گے۔

اجلاس میں سفارش کی گئی کہ اسپیکر قومی اسمبلی وفد کے ارکان نامزد کریں گے جبکہ اسپیکر کی غیر موجودگی میں چیئرمین قائمہ کمیٹی وفد کی سربراہی کر سکیں گے۔ اعجاز الحق نے وفد کے ارکان کی تعداد 7 سے بڑھا کر 10 کرنے کی تجویز دی، جس کی حمایت کرتے ہوئے ثمینہ گھرکی نے کہا کہ کم تعداد ہونے سے دیگر ارکان میں غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے،کمیٹی نے وفد کی تعداد 10 کرنے کی سفارش منظور کر لی۔

کمیٹی نے کہا کہ پارلیمانی وفد کو قومی اسمبلی کی چھتری تلے لایا جانا چاہیے اور اس کے تمام اخراجات قومی اسمبلی برداشت کرے۔ شگفتہ جمانی نے کہا کہ اگر اخراجات خود ادا کیے جائیں تو اسے سرکاری وفد قرار نہیں دیا جا سکتا، جبکہ اسپیکر ماضی میں بڑے وفود کے ساتھ دورے کرتے رہے ہیں۔

کمیٹی نے سفارش کی کہ پاکستان ہاؤس کی سعودی عرب میں تعمیر مکمل ہونے تک وفد کو سرکاری خرچ پر ہوٹل میں ٹھہرایا جائے۔ اس کے ساتھ ہی وفد کو اسٹیٹ گیسٹ قرار دینے کے لیے دفتر خارجہ کے نمائندے کو طلب کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔

وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے کمیٹی کی تجاویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وزارت مذہبی امور وفد کو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں ممکنہ سہولیات فراہم کرے گی، جن میں میڈیکل سہولیات، پاکستان حج ڈائریکٹ کی جانب سے جدہ ٹرانسپورٹ اور لائیزن افسر کی تعیناتی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسجد نبوی ﷺ میں نوافل کی ادائیگی، زیارت، آدابِ بارگاہِ نبوی ﷺ اور عمرہ کے طریقہ کار پر وفد کی رہنمائی بھی کی جائے گی۔

کمیٹی نے سفارش کی کہ وزارت مذہبی امور دورے کی بھرپور میڈیا کوریج کا بھی اہتمام کرے۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ قومی اسمبلی اس سے قبل بھی مدینہ منورہ وفد بھجوانے کی قرارداد منظور کر چکی ہے۔

آخر میں کمیٹی چیئرپرسن نے سفارش کی کہ وفاقی وزیر مذہبی امور اسپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھیں جس میں وفد کے تمام اخراجات قومی اسمبلی کی جانب سے برداشت کرنے کی درخواست کی جائے۔

وفاقی وزیر سردار یوسف نے کہا کہ وفد کا جانا ایک اعزاز ہے اور اس کے سرکاری خرچ پر جانے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ وفد پوری قوم کی جانب سے روزۂ رسول ﷺ پر درود و سلام پیش کرے گا۔