چرنوبل سانحہ کی برسی؛ پاکستان ایٹمی تحفظ اور سلامتی کے اعلیٰ ترین معیاروں کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں بہر صورت ادا کرتا رہے گا: صدر آصف علی زرداری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان ایٹمی تحفظ اور سلامتی کے اعلیٰ ترین معیاروں کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں بہر صورت ادا کرتا رہے گا۔ صدر آصف علی زرداری نے یہ بات چرنوبل نیوکلئیر پلانٹ سے تابکاری کے اخراج کے حادثہ کی 40 ویں برسی پر اپنے پیغام میں کہی۔
صدر آسف علی زرداری نے کہا پاکستان کے صدر کی حیثیت سے میں ایٹمی تحفظ اور سلامتی کے اعلیٰ ترین معیارات کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتا ہوں۔ ہم ان تمام بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں جو ذمہ دارانہ طرزِ عمل کو فروغ دیتی ہیں، حفاظتی اقدامات کو مضبوط بناتی ہیں اور اس طرح کے حادثات کے خطرات کو کم کرتی ہیں۔
چرنوبل کا تجربہ ایک یاد دہانی ہے کہ اس شعبے میں غلطی کی گنجائش نہیں ہے۔ ایسے حادثے کی قیمت فوری متاثرین کے ساتھ ساتھ آنے والی نسلوں کو بھی چکانا پڑتی ہے۔

صدر مملکت نے کہا، آج ہم چرنوبل کے ایٹمی حادثے کو چالیس سال مکمل ہونے پر اس دن کی یاد منا رہے ہیں جس نے ایٹمی خطرات اور ذمہ داری کے بارے میں عالمی شعور کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
1986 میں اس پلانٹ میں ہونے والے دھماکے سے تابکاری کا پھیلاو اپنے متصل علاقے سے بہت دور تک تھا، جس نے موجودہ بیلاروس، یوکرین اور روس کے لاکھوں افراد کو متاثر کیا۔ اس حادثے کے اثرات اس واقعے کے طویل عرصے بعد تک برقرار رہے۔
یہ بھی پڑھیئے: صدرِ مملکت آصف علی زرداری اہم سرکاری دورہ پر چین کے شہر چانگشا پہنچ گئے
صدر آصف علی زرداری نے مزید کہا، یہ دن ہمیں تابکاری کے دور رس اثرات کو تسلیم کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ تابکاری کے اثرات کسی تنصیب کی حدود یا کسی ایک نسل تک محدود نہیں رہتے، بلکہ یہ وسیع علاقوں میں پھیل جاتے ہیں اور طویل عرصے تک برقرار رہتے ہیں، جس سے عوامی صحت، ماحول اور معاشی زندگی اس طور سے متاثر ہوتی ہے جو اکثر ناقابلِ تلافی ہوتے ہیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ چرنوبل پلانٹ کے اس حادثے کے بعد کی صورت حال نے بین الاقوامی تعاون کی اہمیت کو بھی واضح کیا۔ اقوامِ متحدہ کے نظام اور دیگر شریک اداروں نے تحقیق، طبی مداخلت اور بحالی کے پروگراموں کے ذریعے متاثرہ کمیونٹیز کی مدد کی، اور بعد ازاں بحالی اور ترقی پر مبنی طویل مدتی حکمتِ عملی اپنائی۔
یہ مسلسل کوششیں اس چیلنج کی شدت اور مستقل احتیاط کی ضرورت کی عکاسی کرتی ہیں۔
چرنوبل حادثہ کے اسباق
صدر آصف علی زرداری نے اپنے پیگام میں کہا، اس حادثے سے حاصل ہونے والے اسباق بالکل واضح ہیں۔ جوہری حفاظت کو محض ایک تکنیکی معاملہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس کے لیے مستقل نظم و ضبط، سخت نگرانی اور اس سے وابستہ خطرات کے بارے میں گہری آگاہی درکار ہے۔ جوہری تنصیبات سے متعلق کسی بھی قسم کی غفلت یا معاندانہ کارروائی کے ایسے نتائج برآمد ہو سکتے ہیں جو فوری ہدف سے کہیں آگے تک پھیل جاتے ہیں۔
ایسی کارروائیوں سے ان آبادیوں کو طویل مدتی نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے جن کا اس بنیادی واقعے سے کوئی براہِ راست تعلق بھی نہ ہو۔
عام شہریوں کے لیے یہ خطرات عملی طور پر بڑی رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں۔ زرعی اراضی نا قابل کاشت ہو سکتی ہے۔ خوراک اور پانی کی فراہمی برسوں تک متاثر رہ سکتی ہے۔ خاندانوں کو اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے، جس کے تعلیم اور روزگار پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
نظامِ صحت کو ایسی بیماریوں اور حالات سے نمٹنا پڑتا ہے جو بتدریج ظاہر ہوتے ہیں اور وقت کے ساتھ طویل عرصہ تک برقرار رہتے ہیں۔ یہ وہ زمینی حقائق ہیں جو جوہری حادثات کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔
ایٹمی تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنائے رکھنے کا عزم
صدر آسف علی زرداری نے کہا پاکستان کے صدر کی حیثیت سے میں ایٹمی تحفظ اور سلامتی کے اعلیٰ ترین معیارات کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتا ہوں۔
ہم ان تمام بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں جو ذمہ دارانہ طرزِ عمل کو فروغ دیتی ہیں، حفاظتی اقدامات کو مضبوط بناتی ہیں اور اس طرح کے حادثات کے خطرات کو کم کرتی ہیں۔
چرنوبل کا تجربہ ایک یاد دہانی ہے کہ اس شعبے میں غلطی کی گنجائش نہیں ہے۔ اور ایسے حادثے کی قیمت فوری متاثرین کے ساتھ ساتھ آنے والی نسلوں کو بھی چکانا پڑتی ہے۔