انڈونیشیا: سکول لنچ کھانے کے بعد 1 ہزار بچےفوڈ پوائزنگ کا شکار ، سکول بند کرنے کا عندیہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)انڈونیشیا کے صوبہ ویسٹ جاوا میں رواں ہفتے سکول لنچ کھانے کے بعد ایک ہزار سے زائد بچے فوڈ پوائزننگ کا شکار ہو گئے ہیں جس کی تصدیق حکام نے جمعرات کو کی ہے۔
صوبہ ویسٹ جاوا کے گورنر دیدی مولیادی نے بتایا ہے کہ فوڈ پوائزننگ کے یہ واقعات ویسٹ جاوا کے چار مختلف علاقوں میں رپورٹ ہوئے ہیں۔
جب کہ غیر سرکاری تنظیموں نے صحت سے متعلق بڑھتے خدشات کے باعث اس پروگرام کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ تازہ کیسز اُس وقت سامنے آئے ہیں جب گزشتہ ہفتے ویسٹ جاوا اور سنٹرل سولاویسی صوبوں میں 800 طلبا سکول لنچز کھانے کے بعد فوڈ پوائزننگ کا شکار ہوئے تھے۔
یہ کھانے انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانٹو کے ”فری نیوٹریشن میلز پروگرام“ کے تحت فراہم کیے گئے تھے۔
تاہم یہ واقعہ اربوں ڈالر کے مفت غذائیت بخش کھانوں کے پروگرام کے لیے ایک دھچکا ثابت ہوا ہے۔
انڈونیشیا میں صدر پرابوو کے فری میل پروگرام کے معیار اور نگرانی پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔
یہ پروگرام تیزی سے پھیل کر اب 2 کروڑ سے زائد افراد تک پہنچ چکا ہے، جب کہ سال کے اختتام تک 28 کروڑ کی آبادی میں سے 8 کروڑ 30 لاکھ افراد تک کھانا پہنچانے کا ہدف ہے۔ اس پروگرام کا بجٹ اس وقت 171 کھرب روپیہ (تقریباً 10.22 ارب ڈالر) ہے، جو آئندہ سال دوگنا ہونے والا ہے۔
گورنر دیدی مولیادی کے مطابق پیر کے روز ویسٹ بینڈونگ میں 470 سے زائد طلباء بیمار ہوئے، جب کہ بدھ کو وہاں ایک اور سوکابومی ریجن میں مزید تین واقعات پیش آئے، جن میں سکول لنچ کھانے سے کم از کم 580 بچے متاثر ہوئے ہیں۔
مولیادی کا کہنا تھا کہ ہمیں اس پروگرام کو چلانے والوں کا جائزہ لینا ہوگا اور ان بچوں کے ذہنی صدمے کو کیسے دور کیا جائے، جو انہوں نے کھانے کے بعد محسوس کیا ہے۔“
انہوں نے مزید کہا کہ ویسٹ بینڈونگ کے چھوٹے ہسپتال بیمار طلبا کی بڑی تعداد سے نمٹنے کے قابل نہیں رہے۔
صدر پرابوو کے دفتر نے تازہ واقعات پر تاحال کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔
نیشنل نیوٹریشن ایجنسی کے سربراہ، دادان ہندایانا، جن کا کام اس پروگرام کی نگرانی ہےنے بتایا کہ جہاں فوڈ پوائزننگ کے کیسز سامنے آئے ہیں وہاں کی کچن سروسز کو معطل کر دیا گیا ہے۔
دوسری طرف حکام نے کہا ہے کہ اگر یہی صورتحال رہی تو فوڈ پروگرام کےساتھ سکولوں کو بھی غیر معینہ مدت کیلئے بند کر دیا جائے گا۔