مبینہ توہین کنندہ کو صفائی کا موقع دینا لازمی قانونی تقاضا ہے،سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا

Mar 25, 2026 | 17:39:PM
مبینہ توہین کنندہ کو صفائی کا موقع دینا لازمی قانونی تقاضا ہے،سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا
کیپشن: سپریم کورٹ، فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)سپریم کورٹ نے توہین عدالت کی کارروائی سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

جسٹس محمد علی مظہر کی جانب سے جاری کئے گئے تحریری فیصلے میں سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کے سنگل اور ڈویژنل بینچ کے احکامات کالعدم قرار دے دیتے ہوئے ہائی کورٹ کو قانون کے مطابق دوبارہ کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کر دی۔

عدالت کے تحریری فیصلے کے مطابق توہین عدالت کی کارروائی میں فردِ جرم سے قبل ابتدائی سماعت لازمی ہے، مبینہ توہین کنندہ کو ابتدائی سماعت میں صفائی کا موقع دینا لازمی قانونی تقاضا ہے۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سنگل بینچ نے ابتدائی سماعت کا موقع دیئے بغیر براہِ راست فردِ جرم کی تاریخ مقرر کی، ہائی کورٹ کے ڈویژنل بینچ نے بھی قانونی سقم کو نظر انداز کیا، عدالت ابتدائی سماعت کے بعد مطمئن ہو تو ہی فردِ جرم عائد کرسکتی ہے۔

تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ توہین عدالت کی درخواست ہائی کورٹ میں زیر التوا رہے گی۔

واضح رہے کہ سول کیس میں عدالتی حکم کی مبینہ خلاف ورزی پر توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی گئی، ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے ضابطے کی کارروائی مکمل کیے بغیر فردِ جرم کے  لیے تاریخ مقرر کر دی، جس کے بعد درخواست گزار نے سنگل بینچ کے فیصلے کو ہائی کورٹ کے ڈویژنل بینچ میں چیلنج کیا۔

ڈویژنل بینچ نے قانونی سقم دور کرنے کے بجائے اپیل نمٹا کر فریقین کو دوبارہ سنگل بینچ بھیج دیا۔ اب سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے دونوں بینچز کے طریقہ کار کو قانون کی غلط تشریح قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں:ہائی اوکٹین کی قیمت میں 200 روپے فی لیٹر اضافہ عدالت میں چیلنج