پاکستان نے دفاعی طاقت کا توازن بحال کردیا، مئی کی فتح’’پاکستان کا شاندار ترین لمحہ‘‘ قرار

May 24, 2025 | 11:34:AM
پاکستان نے دفاعی طاقت کا توازن بحال کردیا، مئی کی فتح’’پاکستان کا شاندار ترین لمحہ‘‘ قرار
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (24 نیوز):’’16 گھنٹے میں جنوبی ایشیا کی تاریخی تبدیلی‘‘ کے عنوان سے معروف تھنک ٹینک کی رپورٹ کا اجرا کردیا گیا۔

سینیٹرمشاہد حسین نے تھنک ٹینک  کی رپورٹ ’’ 16 گھنٹے  میں جنوبی ایشیا کی تاریخی  تبدیلی‘‘ کا اجرا کر دیا، جس میں مودی کے غلط اندازے اور پاکستان کی  واضح برتری کے  تذکرے کے ساتھ ساتھ  جنگ کو خارج از امکان قرار دیا گیا  ہے کیوں کہ  دفاعی طاقت کا توازن بحال ہو چکا ہے۔ رپورٹ میں  مئی کی فتح کو ’’پاکستان کا شاندار ترین لمحہ‘‘ قرار دیا گیا۔

پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ جو  چین اور خطے پر کام کرنے والا ممتاز تھنک ٹینک ہے اور جسے سینیٹر مشاہد حسین سید نے قائم کیا تھا، نے حالیہ پاک بھارت کشیدگی پر ایک جامع رپورٹ کا اجرا کیا ہے جس کا عنوان  ’’ 16 گھنٹے  میں جنوبی ایشیا کی تاریخی  تبدیلی: مودی کا غلط اندازہ کس طرح پاکستان کی برتری کا باعث بنا‘‘ ہے۔

 یہ بھی پڑھیں:بھارت میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں ریکارڈ کمی، حکام نے سر پکڑ لئے۔۔۔۔

رپورٹ کے اجرا کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ پاکستان چائناانسٹی ٹیوٹ پاکستان کا پہلا تھنک ٹینک ہے جس نے اس نوعیت کی جامع رپورٹ تیار کی، جو اس کشیدگی کے تمام پہلوؤں اور اس کے نتائج، مودی کے غلط اندازے اور پاکستان کی کامیابی کی وجوہات کا احاطہ کرتی ہے جسے انہوں نے ’’1962 میں چین سے نہرو کی شکست کے بعد بھارت کی سب سے بڑی شکست‘‘ قرار دیا۔

انہوں نے پاکستان کی مسلح افواج کی جرات مندانہ حکمتِ عملی کو سراہا اور اس کا کریڈٹ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر کی متحرک قیادت کو دیا جنہوں نے باہمی ہم آہنگی کے ساتھ  اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاندار بین الافواج تعاون اور حکمتِ عملی کی واضح  مثال قائم کی۔

پاکستان کی کامیابی کی دیگر وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے پاک فضائیہ کے پائلٹس کی پیشہ ورانہ مہارت، تربیت، جذبے اور جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال  خاص طور پر الیکٹرانک وارفیئر کے استعمال اور سائبر میدان میں برتری کے حصول کو سراہا ۔

انہوں نے کہا کہ مئی 1998 کے ایٹمی تجربات کے بعد  جب وہ پاکستان کے وزیر اطلاعات اور چیف ترجمان تھے  اس بار بھی پاکستان کا لمحۂ فخریہ تھا کیونکہ ہر شعبے میں مکمل منصوبہ بندی، مکمل ہم آہنگی اور مکمل عملدرآمد دیکھنے کو ملی تھی جسے دفتر خارجہ کی مؤثر سفارت کاری اور میڈیا کا سنجیدہ بیانیہ حاصل تھا۔

 مزید پڑھیں:میٹرو ،اورنج ٹرین کا کر ایہ 100 مقرر،مگر کیوں۔۔۔ ؟

انہوں نے پاکستانی عوام کے بلند حوصلے اور جرات کو بھی سراہا، جنہوں نے بیرونی جارحیت کے سامنے اپنی افواج کے ساتھ کھڑے ہو کر یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔

رپورٹ پیش کرتے ہوئے جس کے سرورق پر چار تصاویر موجود ہیں جن میں جے ایف-17 تھنڈر اور جے-10سی طیارے پس منظر میں پرواز کرتے دکھائے گئے ہیں، سینیٹر مشاہد حسین نے چین کے کردار کو سراہا جو صدر شی جن پنگ کی قیادت میں پاکستان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا ہے۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کے کردار کو بھی سراہا جنہوں نے سیز فائر میں ثالثی کی اور مسئلہ کشمیر کو دوبارہ زندہ کیا جو بھارت کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا۔

جنگ کے امکان کو مسترد کرتے ہوئےسینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ مئی میں پیش آنے والے واقعات کے نتیجے میں تین نئی اسٹریٹجک حقیقتیں  سامنے آئی ہیں۔ جن میں پاکستان نے اپنی دفاعی طاقت کاتوازن بحال کیا، جبکہ چین اب مسئلہ کشمیر کا عملی طور پر ایک فریق بن چکا ہے اور جنوبی ایشیا میں استحکام کے لیے ایک کلیدی قوت کے طور پر ابھرا ہے جو پاکستان کی وحدت، علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ایک قلعے کا کردار ادا کر رہا ہے۔

علاوہ ازیں امریکہ ایک اور عالمی طاقت کے طور پر سامنے آیا ہے جو کشمیر کے مسئلے کو دوبارہ زندہ کر کے اور پاکستان و بھارت کو برابری کی سطح پر امن و سلامتی کے تحفظ میں کردار ادا کر رہا ہے۔

  پاکستان چائناانسٹی ٹیوٹ( پی سی آئی) کی رپورٹ 3 نکاتی جامع حکمت عملی تجویز کرتی ہے جو  متحرک سفارت کاری پر مرکوز ہے جس میں جنوبی ایشیائی ممالک کی جانب ایک اسٹریٹجک سمت بندی، چین، ترکی، آذربائیجان، ایران اور سعودی عرب جیسے اتحادیوں سے تعلقات کو مضبوط کرنا شامل ہے.

 اسے بھی پڑھیں:وزارت داخلہ  کا بڑا فیصلہ ۔۔۔

نیز دریائے سندھ کے پانی کے معاہدے پر تخلیقی قانونی حکمت عملی (لاء فیئر) کا استعمال، بھارت کے آر ایس ایس ہندوتوا نظام کو مغرب کی بین الاقوامی عدالتوں میں لے جانا اور میڈیا، تھنک ٹینکس، پالیسی سازوں، پارلیمانی و عوامی سفارت کاری کے ذریعے بیانیے کی جنگ کو فروغ دینا بھی اس حکمت عملی کا حصہ ہے۔

پی سی آئی رپورٹ کے اہم نکات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جنوبی ایشیا میں  بلینس آف ٹیرر کا ماڈل مؤثر رہا ہے کیونکہ پاکستان اور بھارت دونوں جوہری طاقتیں ہیں، اس نے بھارتی جارحیت کو مؤثر طریقے سے روکا ہے اور خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھا ہے۔

درحقیقت، جو ایک تاریخی کامیابی ہے، پاکستان نے بھارت کے ساتھ روایتی دفاعی اور طاقت کے توازن بھی بحال کر لیا ہے، باوجود اس کے کہ دونوں ممالک کے درمیان سائز اور وسائل کے لحاظ سے نمایاں فرق موجود ہے۔