5 سال میں مصنوعی ذہانت انسانی سوچ سے بھی آگے نکل جائے گی: ایلون مسک

Jan 24, 2026 | 10:54:AM
5 سال میں مصنوعی ذہانت انسانی سوچ سے بھی آگے نکل جائے گی: ایلون مسک
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک نے عالمی اقتصادی فورم میں خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) اگلے 5 سال میں نہ صرف اپنی موجودہ صلاحیتوں سے آگے بڑھ سکتی ہے بلکہ انسانی سوچ سے بھی آگے بڑھ جائے گی۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ایلون مسک نے بلیک راک کے سی ای او لیری فنک کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ کمپیوٹر سسٹمز اور مختلف صنعتوں میں تیار شدہ ذہین سافٹ وئیر کی ترقی کی رفتار اتنی تیز ہے کہ اگلے سال یا اس سال کے دوسرے نصف میں AI ممکنہ طور پر انسانی قابلیت سے آگے بڑھ سکتی ہے۔

مسک نے وضاحت کی کہ AI کی ترقی مرحلہ وار ہوگی اور اگلے 10 سال میں واضح مراحل میں بڑھتی رہے گی، جس کی رفتار زیادہ تر لوگ سمجھ نہیں پاتے، تاہم عالمی معیشت میں اس کے اثرات بہت جلد نظر آئیں گے۔

مزید پڑھیں:ایمازون کا ہزاروں لوگوں کو نوکریوں سے نکالنے کا فیصلہ

 مسک نے روبوٹکس میں پیشرفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ٹیسلا کے ہیومینوڈ روبوٹز، جنہیں ’آپٹیمس‘ کہا جاتا ہے، پہلے ہی فیکٹریوں میں معمول کے کام انجام دے رہے ہیں اور سال کے آخر تک یہ زیادہ پیچیدہ کام بھی کر سکیں گے۔

انہوں نے پیشگوئی کی کہ یہ ہیومینوڈ روبوٹز اگلے سال مارکیٹ میں عام صارفین کے لیے دستیاب ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ حفاظت، اعتماد اور افادیت کے اعلیٰ معیار پورے کیے جائیں۔

 مسک نے یہ بھی کہا کہ وقت کے ساتھ صارفین روبوٹز سے تقریباً ہر قسم کا کام کروانے کی توقع رکھ سکتے ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے ٹیسلا کی گاڑیوں کے لیے کیا جاتا ہے۔