واہگہ بارڈر، فضائی حدود اور بھارت سے ہر قسم کی تجارت فوری بند، پانی روکا تو اسے جنگی اقدام سمجھا جائیگا: قومی سلامتی کمیٹی
پہلگام حملے اور 27 سیاحوں کی ہلاکت پر بھارت کی جانب سے اٹھائے گئے یکطرفہ جارحانہ اقدامات کا بھرپور جواب دینے کیلئے قومی سلامتی کمیٹی کے اہم اجلاس میں ملکی داخلی و خارجی صورتحال پر غور کیا گیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ملک کی سول اور عسکری قیادت نے بھارت کے کسی بھی مس ایڈونچر کا پوری طاقت سے جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
پہلگام واقعے کے بعد بھارت کی آبی جارحیت اور دیگر اقدامات کا بھرپور جواب دیتے ہوئے پاکستان نے بھی بھارت سے زمینی راستے کے ذریعے تجارت فوری طور پر بند کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستانی ملکیت کے پانی کا بہاؤ روکا گیا تو اسے جنگی اقدام سمجھا جائے گا, پاکستان نے واہگہ بارڈر، بھارت کیلئے فضائی حدود اور زمینی راستے کے ذریعے تجارت فوری طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس نے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا بھارتی یکطرفہ اعلان مسترد کر دیا، پانی پاکستان کا اہم قومی مفاد ہے اور 24کروڑ پاکستانیوں کی لائف لائن ہے، پاکستان اپنی لائف لائن کا ہر قیمت پر تحفظ کرے گا، پاکستان کی ملکیت کے پانی کا بہاؤ روکا گیا یا پانی کا بہاؤ موڑا گیا تو اس کو اس جنگ کا اقدام سمجھا جائے گا۔
مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونےوالے حملے اور 27 سیاحوں کی ہلاکت پر بھارت کی جانب سے اٹھائے گئے یکطرفہ جارحانہ اقدامات کا بھرپور جواب دینے کیلئے قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس ختم ہوگیا، اجلاس میں پہلگلام فالس فلیگ کے بعد کی ملکی داخلی و خارجی صورتحال پر غور کیا گیا۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں تینوں سروسز چیفس، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے علاوہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور اٹارنی جنرل منصور عثمان خان، وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری توقیر شاہ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور خارجہ طارق فاطمی نے شرکت کی۔
ذرائع کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھارت کے کسی بھی مس ایڈونچر کا پوری طاقت سے جواب دینے کا فیصلہ کیا گیا، اجلاس کے دوران قومی سلامتی کمیٹی نے مسلح افواج کی آپریشنل تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی سفارتی اور آبی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے وزارت خارجہ کی سفارشات منظور کر لی گئیں۔
ذرائع کے مطابق پہلگام واقعہ کے بعد پاکستان پر لگائے گئے تمام بھارتی الزامات مسترد کر دیئے گئے، سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر عالمی فورمز سے رجوع کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
گزشتہ روز وزیر دفاع خواجہ آصف نے بتایا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھارتی اقدامات کے خاطر خواہ جواب کا فیصلہ کیا جائے گا,خواجہ آصف کا کہنا تھا بھارت نے جو اقدامات اٹھائے ہیں وہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں زیر غور لائیں گے، بھارت سندھ طاس معاہدے کو اس طرح معطل نہیں کر سکتا، معاہدے میں صرف پاکستان اور بھارت شامل نہیں دیگر عالمی فریقین بھی شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جس طرح ابھینندن کے وقت جواب دیا تھا اس بار بھی ہم بھارت کو 100 فیصد جواب دینےکی پوزیشن میں ہیں، پاکستان ائیر فورس نے ابھینندن کے وقت جو جواب دیا تھا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا بھارت بہت عرصے سے سندھ طاس معاہدے سے نکلنا چاہ رہا ہے، بھارت میں جو واقعہ ہوا وہ قابل مذمت ہے، تاہم واقعے کے بعد اٹھائے گئے اقدامات سے بھارت کا چہرہ کھل کر سامنے آ رہا ہے۔
خیال رہے کہ 3 روز قبل بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے حملے کو بہانہ بنا کر پاکستان سے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے اور اٹاری چیک پوسٹ بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بھارتی وزیراعظم مودی کی زیر صدارت کابینہ اجلاس کے بعد بھارت نے پاکستانیوں کو سارک کے تحت ویزے بند کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے،بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ تمام پاکستانیوں کے بھارتی ویزے کینسل کئے جا رہے ہیں، بھارت میں موجود پاکستانیوں کو 48 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔