پنجاب کے بلدیاتی انتخابات غیر جماعتی نہیں جماعتی بنیادوں پر ہونگے; شمائلہ رانا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما اور ممبر قومی اسمبلی شمائلہ رانانے کہا ہے کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات پر ابھی رول بننے باقی ہیں جس پر کام ہورہا ہے ، پنجاب کے بلدیاتی انتخابات غیر جماعتی نہیں جماعتی بنیادوں پر ہونگے۔
24نیوز کے پروگرام ’’گونج مسعود رضا کے ساتھ ‘‘میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما اور ممبر قومی اسمبلی شمائلہ رانانے کہا کہ کسی بھی جماعت کا حق ہے جس کی اجازت آئین اور جمہوریت بھی دیتی ہے کہ پر امن احتجاج کیا جائے لیکن احتجاج پاکستان کے عوام کے جان و مال کے نقصان کا باعث نہیں ہونا چاہے۔
رکن اسمبلی کا کہنا تھا کہ سیاسی جلسے جلوس ایسے نہیں ہوتے جس احتجاج میں خون کی ہولی کھیلی جائے وہ سیاسی احتجاج نہیں ہوتے،انہوں نے مزید کہا کہ سہیل خان آفریدی صوبے کے وزیر اعلیٰ ہیں ان کی توجہ دہشت گردی کے خاتمے اور عوام کی خدمت پر ہونی چاہیے،سہیل آفریدی کی اگر بانی تحریک انصاف سے ملاقات نہیں ہوپارہی تو وہ اپنی سیاسی پارٹی کے رہنماوں سے مشاورت کر کے اپنی کابینہ کی تشکیل کر لیں ۔
لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ اپنے ان معاملات کو باہر لاکر وہی جتھہ ازم وہی دھاوا ویسے ہی جیسے انہوں نے 9 مئی کیا تھااور پچھلے دنوں اسلام آباد میں یلغار کی تھی ،ہر قیدی کا بنیادی حق ہے کہ وہ اپنی فیملی اور وکیلوں سے ملے اور بانی کو بھی یہ سہولت حاصل تھی، سہیل آفریدی کی بھی ملاقات ہو جائیگی،ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کوئی عام قیدی نہیں وہ اس ملک کے سابق وزیر اعظم ہیں ہمیں ان کو سیکیورٹی دینی ہے ۔
شمائلہ رانا نے مزید کہا کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات پر ابھی رول بننے باقی ہیں جس پر کام ہورہا ہے ، پنجاب کے بلدیاتی انتخابات غیر جماعتی نہیں جماعتی بنیادوں پر ہونگے۔
پروگرام میں شامل پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما حسن مرتضیٰ نے کہا کہ پر امن احتجاج سے کسی کو نہیں روکا جا سکتا اگر سیاسی جماعتیں سیاسی جدوجہد کر رہی ہیں تو لازمی کرنی چاہیے لیکن پر تشدد کارروئیوں پر مبنی سیاست کی اجازت کسی کو بھی نہیں ہونی چاہیے چاہے، وہ کوئی بھی سیاسی جماعت ہو لیکن یہ کارروائی شفافیت پر مبنی ہونی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ اس ملک میں اگر سیاسی نظام مظبوط ہوگا تو پارلیمنٹ بھی مضبوط ہوگی،سپریم کورٹ بھی مضبوط ہوگی، جمہوریت بھی مضبوط ہوگی لیکن اگر شفاف نہیں ہوا تو اس پر انگلیاں اٹھیں گی۔
پروگرام میں شامل پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) رہنما حلیم عادل شیخ نے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کہتی ہے کہ سہیل آفریدی کے عمران خان سے ملنے پر سیکیورٹی خدشات ہیں ،کیا سہیل آفریدی دہشت گرد ہے،وہ پاکستانی نہیں ہے، حکومت ایسے کام نا کرے جس سے نفرت بڑھے۔
ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی ایک بڑے صوبے کا وزیر اعلیٰ ہے،اسے عوام نے بنایا ہے وہ اپنے چیئرمین سے مل کر ان کی رائے لینا چاہتا ہے،جب وہ وزیر اعظم کو فون کر کے کہتا ہے کہ اسے وزیر اعظم سے ملنے دیا جائے تو جواب ملتا ہے کہ پوچھ کر بتاونگا۔
پروگرام میں شامل پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب نے مذہبی جماعت پر پابندی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ٹی ایل پی پر پابندی آئین و قانون کے تحت لگائی ہے جس کا کافی جواز موجود تھا اور یہ پہلی دفعہ نہیں ہوا 2021 میں بھی ان پر پابندی لگائی گئی تھی جو کافی یقین دہانیوں کے بعد واپس لے لی گئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا مرحلہ تب آتا ہے جب الیکشن ایکٹ کے تحت کسی پارٹی پر پابندی لگتی ہے لیکن حکومت نےانسداد دہشت گردی قانون 11بی اےکے تحت کارروائی کی ہے،ان کو سپریم کورٹ کو کوئی ریفرنس نہیں بھیجنا ہے، یہ حکومت کا فیصلہ ہے کابینہ کے فیصلے کے بعد وزارت داخلہ اس کو نوٹیفائی کر دے گی تو اس کے اوپر جو اپیل ہے وہ بھی وزارت داخلہ میں ہی کی جائے گی اگر وہ اپیل منظور نہیں ہوتی پھر عدالتی کارروائی کی نوبت آئے گی۔
یہ بھی پڑھیں : فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ مصر،علاقائی سلامتی کی صورتحال اوردفاعی تعاون پر گفتگو