بیرونی ایجنڈے پر کاربند عناصر میرے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں: خواجہ آصف

Jun 23, 2026 | 18:46:PM
بیرونی ایجنڈے پر کاربند عناصر میرے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں: خواجہ آصف
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز ) وزیر دفاع خواجہ آصف نے آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال سے متعلق اپنے بیان پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ریمارکس صاف گوئی اور دیانتداری پر مبنی تھے، تاہم بعض عناصر انہیں غلط رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ جن لوگوں کے خفیہ اور منفی ایجنڈے ہیں وہ ان کے مؤقف کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں، لیکن وہ کشمیر کو پاکستان سے یا پاکستان کو کشمیر سے الگ نہیں کر سکتے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ ان کشمیریوں کی قربانیاں تاریخ کا حصہ ہیں جنہوں نے اکتوبر 1947 میں ہجرت کر کے پاکستان کا رخ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قبضے کے خلاف کشمیری عوام کی جدوجہد گزشتہ 78 برسوں سے قربانیوں، شہادتوں اور اسیری کی ایک طویل داستان پر مشتمل ہے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی کشمیر کاز سے وابستگی کا ثبوت ان شہداء کے خون میں موجود ہے جو مختلف جنگوں میں وطن کے دفاع اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے قربان ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا اصولی مؤقف ہمیشہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کے حقِ خودارادیت اور رائے شماری کی حمایت پر مبنی رہا ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ آزاد کشمیر سے پاکستان مخالف بیانیے یا بیرونی و منفی ایجنڈے سے متاثر آوازوں کا مؤثر اور سخت جواب دیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق کچھ کشمیری وہ ہیں جنہوں نے ہجرت کی قربانیاں دیں جبکہ کچھ آج بھی مقبوضہ کشمیر میں ان قربانیوں کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام، جو دہائیوں سے پاکستانی افواج کی حفاظت میں امن سے زندگی گزار رہے ہیں، انہیں مقبوضہ کشمیر کے عوام اور مہاجرین کی قربانیوں کا اعتراف کرنا چاہیے۔ خواجہ آصف کے مطابق ان قربانیوں کو کم تر سمجھنا دراصل کشمیر کاز کی نفی کے مترادف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’’کشمیریت‘‘ کی شناخت پیدائشی سرٹیفکیٹس سے نہیں بلکہ ان قربانیوں، جدوجہد اور استقامت سے ہوتی ہے جو گزشتہ تقریباً آٹھ دہائیوں سے کشمیریوں اور پاکستانیوں نے مشترکہ طور پر پیش کی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات