چیف جسٹس عالیہ نیلم: خاموش اصلاحات، مضبوط عدالتی قیادت

تحریر:ملک اشرف 

Jan 23, 2026 | 16:25:PM
چیف جسٹس عالیہ نیلم: خاموش اصلاحات، مضبوط عدالتی قیادت
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

پنجاب کی عدالتی تاریخ میں کچھ ادوار ایسے ہوتے ہیں جو نعروں یا دعوؤں سے نہیں بلکہ نظام میں حقیقی تبدیلیوں سے پہچانے جاتے ہیں۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ، جسٹس مس عالیہ نیلم کا دور بھی ایسا ہی ایک دور بن کر ابھر رہا ہے، جہاں توجہ شہ سرخیوں سے زیادہ عدالتی نظم و نسق، شفافیت اور ادارہ جاتی اصلاحات پر مرکوز ہے۔مزید قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ چیف جسٹس عالیہ نیلم لاہور ہائیکورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس ہیں، جو اس عہدے پر فائز ہو کر نہ صرف خواتین کے لیے ایک مثال قائم کر رہی ہیں بلکہ عدالتی قیادت میں صنفی توازن کی بھی علامت بن گئی ہیں۔
جسٹس عالیہ نیلم نے عدلیہ کی قیادت ایسے وقت میں سنبھالی جب زیرِ التواء مقدمات کی تعداد بڑھ رہی تھی، عدالتی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے تھے اور عوامی اعتماد کمزور ہو رہا تھا۔ اس تناظر میں ان کا سب سے نمایاں اور انقلابی اقدام صوبہ بھر کی ضلعی عدالتوں میں پرفارمنس انفارمیشن سسٹم کا نفاذ ہے، جو محض ایک آئی ٹی پراجیکٹ نہیں بلکہ عدالتی احتساب اور شفافیت کی سمت ایک بنیادی اصلاح ہے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ پنجاب کی ضلعی عدلیہ کی یومیہ کارکردگی ایک بٹن دبانے پر دستیاب ہے۔ دائر اور نمٹائے گئے مقدمات، زیرِ التواء کیسز، ججز کی دستیابی، عدالت وار اور کیٹیگری وار تفصیلات یہ سب اب اعداد و شمار کی شکل میں نہیں بلکہ قابل فہم گرافیکل انداز میں سامنے ہیں۔ اس سے نہ صرف چیف جسٹس بلکہ پورا عدالتی نظام اپنی کارکردگی خود دیکھ اور جانچ سکتا ہے۔اہم بات یہ ہے کہ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے اس نظام کو کنٹرول کے آلے کے بجائے اصلاح کے ذریعہ کے طور پر متعارف کرایا۔ عدلیہ میں احتساب کو سزا سے نہیں بلکہ معلومات اور شفافیت سے جوڑنا بالغ نظری کی علامت ہے، اور یہی وہ سوچ ہے جو اداروں کو کمزور کرنے کے بجائے مضبوط بناتی ہے۔ان کی قیادت کا ایک اور نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ ادارے کو فرد سے مقدم رکھتی ہیں۔ غیر ضروری بیانات، میڈیا ٹرائل یا ذاتی تشہیر سے گریز کرتے ہوئے ان کی توجہ ہمیشہ نظام کی بہتری پر رہی ہے۔ آئی ٹی اصلاحات، ماڈل کورٹس کی نگرانی، ضلعی عدلیہ کی کارکردگی کا جائزہ اور انتظامی معاملات میں تسلسل یہ سب ان کے دور کی واضح نشانیاں ہیں۔خواتین کے لیے یہ امر بھی قابلِ فخر ہے کہ جسٹس عالیہ نیلم نے اپنی پیشہ ورانہ قابلیت اور انتظامی بصیرت سے یہ ثابت کیا کہ عدالتی قیادت کا معیار صنف سے نہیں بلکہ وژن، دیانت اور فیصلوں کی مضبوطی سے طے ہوتا ہے۔ انہوں نے کسی علامتی حیثیت پر اکتفا نہیں کیا بلکہ عملی اقدامات سے اپنی پہچان بنائی۔یہ بھی حقیقت ہے کہ عدالتی نظام میں تبدیلی ایک دن میں ممکن نہیں۔ تاہم جس سمت کا تعین جسٹس عالیہ نیلم نے کیا ہے، وہ درست، جدید اور پائیدار دکھائی دیتا ہے۔ پرفارمنس انفارمیشن سسٹم جیسے اقدامات مستقبل میں نہ صرف زیرِ التواء مقدمات میں کمی کا باعث بن سکتے ہیں بلکہ عوام کے عدلیہ پر اعتماد کو بھی بحال کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔

مختصر یہ کہ چیف جسٹس عالیہ نیلم کا دور خاموش مگر مؤثر اصلاحات کا دور ہے۔ اگر یہی تسلسل برقرار رہا تو ان کا نام لاہور ہائیکورٹ کی تاریخ میں ان چیف جسٹس صاحبان میں شمار ہوگا جنہوں نے نظام کو وقتی فیصلوں کے بجائے دیرپا اصلاحات کی بنیاد فراہم کی۔

نوٹ:بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ایڈیٹر