بنبھور کا تاریخی ورثہ نہایت قیمتی ہے، تحفظ ضروری ہے، اٹلی کی ایمبیسیڈر مارلینا آرملین کی وزٹ کے دوران گفتگو
Stay tuned with 24 News HD Android App
(زبیر رشید) اسلام آباد میں متعین اٹلی کی ایمبیسیڈر مارلینا آرمِلین نے کراچی، بنبھور اور مکلی کا دورہ کیا اور سندھ کے قدیم آثار دیکھے۔ ان مقامات پر اٹلی کے ماہرین بھی پاکستانی آرکیالوجسٹوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
اٹالین ایمبیسیڈر مارلینا آرمِلین کے ہمراہ اٹلی کے نائب قونصل جنرل اور دیگر اہلکار بھی سندھ کے قدیم تاریخی مقامات کی سیر کرنے کے لئے آئے۔
بنبھور میں پاکستانی آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں نے اٹالین ایمبیسیڈر کو سندھ کے آثارِ قدیمہ پر بریفنگ دی۔ مکلی نیکروپولس کو یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دے رکھا ہے۔ پاکستانی حکما نے ان آثار کی عالمی ثقافتی ورثے کی حیثیت سے خصوصی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

اٹالین ایمبیسیڈر مارلینا آرمِلین اور ان کے ہمراہ آنے والے مہمانوں کو شاہ جہاں مسجد ٹھٹہ کے تاریخی پس منظر پر بھی بریفنگ دی گئی۔
اٹالین ایمبیسیڈر نے بنبھور کے آثار کے تحفظ کی کوششوں میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

ان مقامات پر اٹلی کے ماہرین بھی پاکستانی آرکیالوجسٹوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ ایمبیسیڈر نے عالمی ثقافتی ورثہ کو محفوظ بنانے کے لئے پاکستانی اور اطالوی ماہرین کےاشتراک سے کھدائی کے کام کو سراہا۔
انہوں نے بمبھور کو پُرامن تہذیب کا ورثہ اور شاندار تاریخی مقام قرار دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ کے آثارِ قدیمہ اور قدیم تہذیب کے آثار نے ان کو بہت متاثر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: امریکی فوج نے بحر ہند میں ایران سے منسلک ایک اور آئل ٹینکر کو قبضے میں لے لیا
انہوں نے کہا، بھمبھور کے محفوظ ڈھانچے ماضی کی عظمت کی جھلک پیش کرتے ہیں۔
مارلینا آرمِلین نے کہا، بنبھور کا تاریخی ورثہ نہایت قیمتی ہے، اس کا تحفظ ضروری ہے۔ بھمبھور ایک پُرامن اور متاثر کن مقام ہے جو قدیم تہذیب کی عکاسی کرتا ہے۔ پاک–اطالوی ماہرین آثارِ قدیمہ کا مشترکہ کام قابلِ ستائش اور اہم ہے۔

یہ بھی پڑھیئے: جنگ بندی، موجوہ حالات میں نوبیل انعام کا اصل حق دار پاکستان ہے: اٹلی