فریحہ پرویز کی واپسی — صوفی سرگم کی گونج دوبارہ بلند

تحریر: زین مدنی حسینی 

Nov 22, 2025 | 21:10:PM
فریحہ پرویز کی واپسی — صوفی سرگم کی گونج دوبارہ بلند
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

پاکستانی میوزک انڈسٹری میں ایک بار پھر وہ نام گونجنے لگا ہے جو ایک زمانے میں ہر بڑے میوزک شو، ریڈیو اور ٹی وی سکرین کی جان ہوا کرتا تھا۔ معروف گلوکارہ فریحہ پرویز نے پانچ سال بعد اپنی شاندار واپسی کا اعلان کر دیا ہے اور ان کی نئی قوالی "میری توبہ میری توبہ" نے ایک بار پھر موسیقی کے شائقین کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔

فریحہ پرویز نے یہ نیا صوفیانہ کلام معروف شاعر اے حمید کی تخلیق سے لیا ہے، جسے میوزک پروڈیوسر شجر شوکت نے نہایت خوبصورتی سے ترتیب دیا، جبکہ مکس اور ماسٹرنگ کی ذمہ داری ایاز چوہان نے نبھائی ہے۔ اس کلام کی ویڈیو راشد عباس نے ڈائریکٹ کی ہے جس میں روحانی رنگ اور صوفی محسوسات کو فنکارانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔لیکن اس واپسی کی سب سے اہم بات فریحہ کا وہ سفر ہے جو انہوں نے گزشتہ چند برسوں میں طے کیا۔ پانچ سال قبل اپنی ازدواجی زندگی کے ناکام ہونے کے بعد فریحہ پرویز نے میوزک انڈسٹری سے باضابطہ کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔ اسی دوران انہوں نے اپنی زندگی کا نیا راستہ چنتے ہوئے اپنا ذاتی بیوٹی سیلون قائم کیا، جو آج بھی کامیابی سے چل رہا ہے۔ اس عرصے میں وہ موسیقی سے دور تو رہیں، مگر ان کے گائے ہوئے مشہور گیت آج بھی عوام کے دلوں میں اسی طرح بسے ہوئے ہیں۔ ان کا کلاسک گانا "دل ہوا بوکاٹا" آج بھی محفلوں اور ریڈیو چینلز پر بج کر ماضی کی یاد تازہ کرتا ہے۔
فریحہ پرویز نے ہمیشہ صوفی موسیقی سے گہرا تعلق رکھا ہے۔ میوزک سے وقفہ لینے کے باوجود ان کا دل صوفیانہ کلام کی طرف ہی مائل رہا۔ ان کی واپسی بھی اسی روحانی لگن کا نتیجہ ہے، جس کی جھلک ان کی تازہ قوالی میں صاف محسوس ہوتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اب وہ صوفی گائیکی کو ہی اپنی اصل فنی سمت سمجھتی ہیں اور آئندہ بھی اسی رنگ میں کام کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔فریحہ پرویز کی یہ واپسی نہ صرف ان کے مداحوں کے لیے خوشگوار خبر ہے بلکہ میوزک انڈسٹری کے لیے بھی ایک مثبت اشارہ ہے۔ ایک طویل وقفے کے بعد کسی بڑے فنکار کا دوبارہ میدان میں آنا ہمیشہ نئی تحریک اور نئی سانسیں لاتا ہے۔ اگر فریحہ اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھتی رہیں تو بلاشبہ صوفی موسیقی کی دنیا میں ایک نئی توانائی جنم لے سکتی ہے۔

دیگر کیٹیگریز: بلاگ
ٹیگز: