خیر پور میں "کاری" قرار دے کر ماری گئی بچی کی والدہ انصاف کیلئے عدالت پہنچ گئیں

May 22, 2026 | 18:24:PM
 خیر پور میں
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز) خیرپور میں "کاری کی ماں" انصاف مانگنے کے لئے عدالت آ گئی۔ خاتون نے پولیس پر بے یقینی ظاہر کرتے ہوئے اپنی مدعیت میں مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کر دیا۔  خالدہ چانڈیو کو جاہل بے حس مردوں کے گروہ نے "کاری" قرار دے کر  بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔

پولیس نے "ریاست کی مدعیت" میں مقدمہ درج کیا۔ آج مقتولہ خالدہ چانڈیو کی ریاست  کی مدعیت میں درج مقدمے کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے سیشن عدالت میں درخواست دائر کردی کہ قاتلوں کے خلاف مقدمہ ان کی مدعیت میں درج کیا جائے کیونکہ ان کو پولیس پر بالکل بھی اعتماد نہیں۔

تفصیلات کے مطابق خیرپور کے علاقے رپور میں ‘کاری’ قرار دے کر بے دردی سے قتل کی جانے والی خاتون خالدہ چانڈیو کے کیس میں اہم ٹویسٹ آ گیا جب مقتول بچی کی والدہ خود مدعی بننے کے لئے عدالت پہنچ گئیں۔

مقتولہ خالدہ چانڈیو  کی والدہ نے پولیس پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے سیشن عدالت سےدرخواست کی کہ ریاست کی مدعیت مین درج کی گئی ایف آئی آر کو منسوخ کر کے ان کی ہی مدعیت میں ایف آئی آر درج کی جائے۔ قتل کے مقدمہ میں ایف آئی آر ہی بنیادی دستاویز ہوتی ہے جس پر قاتل یا قاتلوں کو سزا ہونے کا بیشتر انحصار ہوتا ہے۔ 

اسی دوران خیر پور کے  ڈپٹی کمشنر کی تحقیقاتی کمیٹی نے بھی اس المناک واقعے کی لرزہ خیز رپورٹ جاری کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سرکاری دورہ پر ایران روانہ 

مقتولہ خالدہ چانڈیو کی والدہ نے سیشن عدالت خیرپور میں موقف اختیار کیا ہے کہ انہیں پولیس پر بالکل اعتماد نہیں ہے۔انہوں نے عدالت سے استدعا کی "میری بیٹی کے قتل کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج کرنا ہمیں قبول نہیں ہے۔ اس لرزہ خیز قتل کا مقدمہ میری اپنی (والدہ کی) مدعیت میں درج کرنے کا حکم دیا جائے۔”

مقتولہ خالدہ چانڈیو کو  قاتلوں نے ایک ہجوم کی صورت میں حملہ کر کے قتل کر دیا تھا اور یہ حملہ باقاعدہ منصوبہ بندی کر کے کیا تھا۔

پولیس حکام بتاتے ہیں کہ اس  واقعے کے بعد   20 سے زائد ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور دیگر کی تلاش جاری ہے۔

، ڈپٹی کمشنر خیرپور کی تحقیقاتی کمیٹی نے واقعے کی تفصیلی رپورٹ جاری کر دی، جس میں تصدیق کی ہے کہ خالدہ خاتون کو  "ہجوم" نے  کاری قرار دے کر قتل کیا۔

تحقیقاتی کمیٹی nے اپنی رپورٹ میں زور دیا ہے کہ مقتولہ کے لواحقین کے ساتھ ہر صورت انصاف ہونا چاہیے اور واقعے میں ملوث تمام مجرموں کو کڑی سزا ملنی چاہیے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ "ہجوم" کے حملے کی ایف آئی آر میں سب سے بڑا  خلا یہی ہے کہ مقتولہ کے ساتھ عناد کی حقیقی وجہ رکھنے والے فرد یا افراد کی نشاندہی ایف آئی آر میں نہیں کی گئی اور قتل کے آلہ یا آلات کے ضمن میں بھی صریح نشاندہی نہیں۔ بعد مین عدالت کی کارروائی کے دوران ملزموں کے وکیل کسی خاص ملزم کے متعلق ایف آئی آر میں وجہ عناد موجود نہ ہونے، آلہ قتل کی برآمدگی نہ ہونے اور "ہجوم" کے حملہ کی آڑ لے کر یہ استدلال کرتے ہیں کہ موت کی وجہ بننے والی ضرب ان کے مؤکل نے نہیں لگائی ہو گی۔ ایسی ایف آئی آر مین وقتی اشتعال کو قتل کی وجہ تصور کر لیا جاتا ہے اور "وقتی اشتعال" کے تحت کیا جانے والا جرم عدالت کو  کم تر درجہ کی سزا کی طرف لے جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکیلوں کے لئے انتہائی سخت حکم