خالدہ ریاست؛30برس بعد بھی مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں

 70ء اور80ء کی دہائی میں سرفہرست اداکاراؤں میں شامل تھیں،مکالموں کی ادائیگی کے منفرد انداز نے منفرد بنایا

Aug 26, 2026 | 15:08:PM
خالدہ ریاست؛30برس بعد بھی مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ایم وقار) پُرکشش شخصیت اورجاندار اداکاری سے خود کو منوانے والی ٹی وی کی نامور اداکارہ خالدہ ریاست کو مداحوں سے بچھڑے 30 برس بیت گئے،وہ 43 سال کی عمر میں کینسرکے باعث26 اگست 1996ء کوخالق حقیقی سے جاملی تھیں مگر ان کافن مداحوں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہے۔
یکم جنوری 1953ء کو کراچی میں پیدا ہونے والی خالدہ ریاست نے فنی سفر کاآغاز ڈرامہ’’نمدار‘‘سے کیاتھامگرشہرت حسینہ معین کی فلم’’بندش‘‘سے ملی،وہ روحی بانو کے ساتھ 70ء اور80ء کی دہائی میں سرفہرست اداکارائوں میںشامل تھیں،مکالموںکی ادائیگی کے منفرد انداز نے انہیں منفرد بنایا۔
خالدہ ریاست روحی بانو اورعظمیٰ گیلانی سے کسی طور بھی کم نہیں تھیں،اگرچہ انہوں نے ہم عصر فنکارائوں کے مقابلے میں بہت کم کام کیالیکن جوکردار بھی کیاوہ چیخ چیخ کر اپنی موجودگی ثابت کررہا تھا،ان کے ہر ڈرامے اورکردار کا اپنا ہی علیحدہ معیارہوتا تھا،اداکاری میںکردار کو اپنے اوپر حاوی کر کے سامنے لے آنا کوئی مذاق نہیں۔


انہوں نے فنّی سفرکاآغازلاہور سے کیا اور پاکستان ٹیلی ویژن کے لاتعداد ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے،ان کے معروف ڈراموں میں لازوال، مانی، دو کنارے، ایک محبت سو افسانے، نامدار، بندش، پڑوسی، کھویا ہوا آدمی، ٹائپسٹ اور ہاف پلیٹ شامل تھے،ان کا آخری ڈرامہ طویل دورانیے کا خصوصی کھیل’’اب تم جا سکتے ہو‘‘ تھا،انہوں نے نہ صرف سنجیدہ کردار ادا کیے بلکہ مزاحیہ اداکاری میں بھی خود کو منوایا۔
 1970ء کے اواخر میں نشر ہونے والے حسینہ معین کے لکھے اورمحسن علی کے پیش کردہ کھیل’’بندش‘‘سے انہیں پہچان ملی،70ء اور 80ء کی دہائی کے  اوائل کا زمانہ خالدہ ریاست کی فنی زندگی کا بہترین دور تھا، 1976ء میں جب پی ٹی وی کی رنگین نشریات شروع ہوئیں تو خالدہ ریاست کو یہ اعزاز حاصل ہواکہ وہ پاکستان ٹیلی ویژن لاہور مرکز سے پہلا رنگین ڈرامہ’’پھول والوں کی سیر‘‘ میں آصف رضا میر کے مقابل جلوہ گرہوئیں،اس ڈرامے کو اشفاق احمد نے لکھا اور محمد نثار حسین نے پیش کیا تھا۔
خالدہ ریاست جتنی اچھّی سنجیدہ اداکاری کرتی تھیں،مزاحیہ کردار بھی اسی خوب صورتی سے کرتی تھیں،ڈرامہ سیریل ’’پڑوسی‘‘میں انہوں نے مزاحیہ کردار کیاتھاجو ٹیلی ویژن پرخالدہ ریاست کاآخری کام ثابت ہوا،وہ ہرکردار میں بخوبی ڈھل جاتی تھی اوریہ چیز خالدہ ریاست کے علاوہ اور کہیں کم کم ہی نہیں نظر آئی،90ء کی دہائی میں بننے والے طویل دورانیے کے کھیل’’ہاف پلیٹ‘‘‘میں انہوں نے معین اختر کے ساتھ اداکاری کرکے ثابت کیا کہ وہ ہر کردارکونبھانا بخوبی جانتی ہیں۔


زندگی سے بھرپوراورہنس مُکھ خالدہ ریاست کوبریسٹ کینسر تھا لیکن کبھی سرجری نہیں کروائی،بڑی بہادری اور حوصلے کے ساتھ اپنی بیماری کا مقابلہ کیا،ان کی کامیابیوں کاسلسلہ مزید دراز ہوتالیکن کینسر جیسے موذی مرض نے اس باصلاحیت اداکارہ کو دیمک کی طرح چاٹ لیااوروہ 26اگست 1996ء کوکینسر سے لڑتے لڑتے جان کی بازی ہار گئیں مگر ان کی ٹیلی ویژن کے لیے خدمات آج بھی انہیں مداحوں کے دلوں میں زندہ رکھے ہوئے ہیں،وہ کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔