"ٹرمپ کی " آگے کنواں پیچھے کھائی" جیسی صورتحال ہے، سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر کا تبصرہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) واشنگٹن میں امریکہ کے سابق وزیر دفاع اور سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر لیون پنیٹا نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ تین ہفتوں سے جاری جنگ کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ آگے کنواں پیچھے کھائی والی صورتحال میں پھنسے ہوئے ہیں۔
انگلینڈ کے ایک اخبار سے گفتگو میں سی آئی اے اور امریکی وار مشین کے سابق باس لیون پنیٹا نے ٹرمپ کی جنگ کی حکمت عملی پر شدید تنقید کی۔
لیون پینٹا نے کہا کہ ٹرمپ ٹھوس منصوبہ بندی کے بجائے ’خیالی سوچ‘ پر انحصار کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کو یہ گمان ہے کہ ان کے بیانات خود بخود حقیقت بن جائیں گے۔یہ ایک غیر سنجیدہ رویہ ہے۔
لیون پینٹا نے کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کا قتل ایک بڑی غلطی ثابت ہوا کیونکہ اس سے کوئی عوامی بغاوت برپا ہونےکی بجائے ایک زیادہ سخت مؤقف رکھنے والی قیادت سامنے آ گئی۔
لیون پنیٹا نے اس بات پر خاص طور سے حیرت کا اظہار کیا کہ امریکی انتظامیہ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے امکان کے لیے کوئی پیشگی تیاری نہیں کی حالانکہ یہ خطرہ ہمیشہ قومی سلامتی کے اجلاسوں میں زیر بحث رہتا تھا اور ہم جانتےتھے کہ جببھی ایسا ہوا، یہ عالمی تیل بحران کا سبب بن سکتا تھا۔
جنگ بندی ممکن نہیں؛ راستہ کیا ہے؟
لیون پینٹا نے کہا، ٹرمپ اس وقت ایسی صورتحال میں ہیں جہاں ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے باعث جنگ بندی ممکن نہیں اور امریکہ کے پاس اب صرف یہ راستہ رہ گیا ہے کہ وہ ایرانی ساحلی دفاعی نظام کو نشانہ بنائے اور تیل بردار جہازوں کو خود راستہ فراہم کرے اگرچہ اس سے جنگ میں شدت اور جانی نقصان کا خدشہ بڑھ جائے گا۔
لیون پنیٹا نے ٹرمپ کے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ایک مؤثر وزیر دفاع کی بجائے محض صدر کا حامی قرار دیا۔
پینٹا نے کہا کہ جنگ کی ویڈیوز اور ہلاک ہونے والے فوجیوں کی لاشوں کی منتقلی کو تشہیری مقاصد اور فنڈ ریزنگ کے لیے استعمال کرنا غیر مہذب عمل ہے۔
لیون پنیٹا نے ٹرمپ کے ایران میں لڑکیوں کے اسکول پر امریکی حملے پر معافی نہ مانگنے کو عالمی سطح پر امریکہ کے منفی تاثر کو مزید مضبوط کرنے کا سبب قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیئے: آبنائے ہرمز کی بحالی، ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو 48 گھنٹے کا الٹی میٹم
یہ بھی پڑھیئے: ٹرمپ کی بجگی گھر تباہ کرنے کی دھمکی پر ایران کی جوابی دھمکی، عرب ملکوں میں کہرام مچنےکاخطرہ
یہ بھی پڑھیئے: نیوکلئیر سائٹس پر حملے؛ جنگ خطرناک مرحلے میں آنےپر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے سربراہ بول پڑے