تعلیم کا حصول جرم؟ افغانستان میں لڑکی کو سر عام کوڑے مارنے کی ویڈیو وائرل
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)افغانستان سے منسوب ایک وائرل ویڈیو نے شدت پسند گروہ فتنہ الخوارج کی مبینہ تعلیم دشمن اور انتہاپسند سوچ کو ایک بار پھر عالمی سطح پر بے نقاب کر دیا ہے۔
ویڈیو میں سامنے آنے والے واقعے نے نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر سوالات اٹھائے ہیں بلکہ افغانستان میں خواتین اور بچیوں کو درپیش مسلسل مشکلات کی بھی ایک جھلک پیش کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق طالبان حکام کی جانب سے ایک لڑکی کو ابتدائی طور پر اسکول جانے سے روک دیا گیا جس کے باعث اس کی باقاعدہ تعلیم کا سلسلہ متاثر ہوا تاہم اس نے حوصلہ نہ ہارتے ہوئے متبادل راستہ اختیار کیا اور آن لائن تعلیم حاصل کرنا شروع کر دی تاکہ اپنے تعلیمی سفر کو جاری رکھ سکے۔
ذرائع کے مطابق اس کوشش کے باوجود بھی مبینہ طور پر انہی عناصر نے آن لائن تعلیم کے ذریعے علم حاصل کرنے کے عمل کو برداشت نہیں کیا اور بعد ازاں اس لڑکی کو تشدد کا نشانہ بنایا، یہ واقعہ تعلیم دشمنی، خصوصاً بچیوں کی تعلیم کے خلاف سخت رویے کی ایک انتہائی افسوسناک مثال کے طور پر سامنے آیا ہے۔
ہماری اس بہن پر اس ظلم کے ذمہ دار ہم سارے مسلمان خود ہیں. کیونکہ ہم نے میرے الله کے دین کو ایسے جاہل بے غیرت لوگوں کے حوالے کر دیا ہے.
— Muhammad Suhail ALI. (@MuhammaddSuhail) June 20, 2026
ہم اپنے دین سے اس قدر دور ہیں کہ اگر یہ مفاد پرست دین کے ٹھیکیدار ہمیں کوئی بات کہہ دیں، اور پھر کہیں کہ یہ الله ہی کی بات ہے.
تو سارے صرف ہاں… pic.twitter.com/LmLdvGsXWl
یہ صورتحال افغانستان میں خواتین کو درپیش وسیع تر مشکلات کی عکاسی کرتی ہے جہاں مختلف پابندیوں اور سماجی دباؤ کے باعث لڑکیوں کی تعلیم، ملازمت اور آزادانہ نقل و حرکت محدود ہوتی جارہی ہے۔
متعدد رپورٹس کے مطابق بہت سی خواتین کو اسکولوں، یونیورسٹیوں اور مختلف پیشہ ورانہ شعبوں تک رسائی میں شدید رکاوٹوں کا سامنا ہے جس سے ان کے تعلیمی اور معاشی مستقبل پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت کی عالمی ہزیمت مسلسل جاری ، امریکا نے بھارت کو پس پشت ڈال دیا
مبصرین کے مطابق ایسے واقعات نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ خطے میں بڑھتی ہوئی انتہاپسندی اور فکری سختی کی بھی نشاندہی کرتے ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین کی تعلیم پر پابندیاں کسی بھی معاشرے کی ترقی کو متاثر کرتی ہیں اور سماجی و معاشی ترقی کے عمل کو سست کر دیتی ہیں۔
عالمی سطح پر بھی افغانستان میں خواتین کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ لڑکیوں کو تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس بحث کو تازہ کر رہا ہے کہ تعلیم کے حق سے محرومی اور خاص طور پر خواتین کے لیے تعلیمی دروازے بند کرنا نہ صرف انفرادی زندگیوں کو متاثر کرتا ہے بلکہ پورے معاشرے کے مستقبل پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔