پاکستان کا چیلنج بڑے سرمائے کو راغب کرنا ہی نہیں ،برقرار رکھنا بھی ہے، علی عمران آصف
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)سینئر ایگزیکٹو کمیٹی ممبر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری علی عمران آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کو ایک طرف غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کی آمد میں سست روی کا سامنا ہے دوسری طرف اس کا انخلاء بھی جاری ہے جس سے حالات مزید گھمبیر ہو جاتے ہیں ،رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں سرمایہ کاری کی آمد تو جاری ہے لیکن اسے برقرار رکھنے کی صلاحیت کمزور ہے جس کی وجہ سے برا ہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری غیر مستحکم اور نازک صورتحال کا شکار ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ دسمبر 2025 میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی مجموعی آمد 322.5 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئی تاہم 457.3 ملین ڈالر کے اخراج کے باعث خالص بنیاد پر 134.7 ملین ڈالر کا سرمایہ ملک سے باہر چلا گیا، یہ رواں مالی سال کے کمزور ترین ماہانہ خالص اعداد میں سے ایک ہے اور یہ پاکستان کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی پروفائل میں بار بار سامنے آ رہی ہے جس کا مطلب ہے کہ سرمایہ کاری کی مثبت آمد منافع کی وطن واپسی، قرضوں کی ادائیگی اور ایکویٹی کے انخلا ء کے باعث تیزی سے بے اثر ہوجاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 1.81 ارب ڈالر کی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اپنی طرف متوجہ کی جبکہ سرمائے کا اخراج 1.01 ارب ڈالر رہا جس کے نتیجے میں خالص غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری 808.1 ملین ڈالر رہی، پاکستان کی مالی ضروریات اور ترقیاتی اہداف کے مقابلے میں خالص آمد کی یہ سطح معمولی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا چیلنج صرف بڑے سرمائے کو راغب کرنا ہی نہیں بلکہ اسے برقرار رکھنا بھی ہے،صرف مراعات اس مسئلے کو حل نہیں کرسکتیں، سرمایہ کاروں کو جس چیز کی ضرورت ہے وہ پیشگوئی اور اعتماد ہے،مستحکم غیر ملکی زرمبادلہ اور منافع کی واپسی کے واضح قوانین ،منظوریوں کے پیچیدہ عمل میں کمی اور پالیسیوں کے مستقل نفاذ کے بغیر سرمایہ ملک میں آ تو سکتا ہے لیکن وہ یہاں ٹھہرے گا نہیں، نہ ہی دوبارہ سرمایہ کاری کرے گا اور نہ ہی اپنے ساتھ دیگر سرمایہ کاروں کو لائے گا۔