گل پلازہ میں آگ کیسے لگی؟ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آ گئی

Jan 22, 2026 | 17:35:PM
 گل پلازہ میں آگ کیسے لگی؟ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آ گئی
کیپشن: گل پلازہ میں لگی ہوئی آگ سرعت سے پھیل کر عمارت کے سب حصوں میں پہنچ جانے کے بعد کا یہ منظر میڈیا میں حادثہ کی رات رپورٹ ہوا۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)  کراچی کےتحقیقاتی حکام نے   سانحہ گل پلازہ کے عینی شاہدین اور متاثرین کے بیانات کی مدد سے واقعہ   کی ابتدائی رپورٹ تیار کرلی۔

تحقیقات سے واقفیت رکھنے والے ذرائع کے مطابق گل پلازہ میں آگ مصنوعی پھولوں کی دکان سے  پھیلی تھی۔ اب یہ سامنے آ چکا ہے کہ پھولوں کی دوکان میں آگ بجلی کی تاروں میں شارٹ سرکٹ جیسی کسی خرابی سے نہیں لگی تھی۔ یہ آگ  کسی آتشگیر مادہ ماچس یا لائٹر سے لگائی گئی تھی۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ کہا جا رہا ہے کہ  مصنوعی پھولوں کی دوکان میں بچے بھی موجود تھے،  کپڑے اورآسانی سے آگ پکڑنے والے مواد سے بنے مصنوعی پھولوں اور دیگر سامان میں آگ دکان میں موجود بچوں کے کھیلنے کے دوران آگ لگی۔

تحقیقات سے منسلک ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر بچے دکان میں ماچس یا لائٹر سے کھیل رہے تھے۔ ابتدائی میں آگ دکان میں موجود سامان میں لگی اور پھر باہر پھیل گئی۔

تحقیقات کرنے والوں کا یہ کہنا ہے کہ آگ شارٹ سرکٹ سے نہیں لگی تھی۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ  آگ لگتے ہی عمارت میں موجود افراد خارجی راستوں کی طرف بھاگے تھے۔  عمارت کے دروازے بند ہونے کی وجہ سے بھگدڑ مچی۔

ذرائع نے کہا کہ عمارت میں آگ لگنے کی رات حادثہ کے وقت  زیادہ تر دکانیں کھلی ہوئی تھیں۔  عمارت کی چھت کے راستے پر بھی لوہے کی گرل لگی ہوئی تھی۔ آگ لگنے سے عمارت میں موجود سی سی ٹی وی سسٹم مکمل طور پر متاثر ہوا ہے۔