معروف ادیب اورکالم نگارمنو بھائی مرحوم کی اہلیہ انتقال کر گئیں

Jan 22, 2026 | 11:26:AM
معروف ادیب اورکالم نگارمنو بھائی مرحوم کی اہلیہ انتقال کر گئیں
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24 News
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(طلحہٰ اشرف)معروف ادیب،کالم نگاراور چیئرمین سندس فاؤنڈیشن منو بھائی مرحوم کی اہلیہ انتقال کر گئیں۔
منّوبھائی کا انتقال بلاشُبہ ایک عہد کا خاتمہ تھا،وہ ایک سچّے‘کھرے‘بے باک ترقی پسند صحافی تھے،ان کی وفات ترقی پسندانہ سوچ کے ایک عہد کا اختتام تھا۔
منوبھائی کی اہلیہ کی نماز جنازہ ریواز گارڈن منو بھائی پارک میں ادا کر دی گئی ،نماز جنازہ میں ادبی و صحافتی حلقوں کے افرادنے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

منوبھائی کی اہلیہ کی نمازجنازہ میں معروف اداکار سہیل احمد ،طاہر سرور میر،یاسین خان ،خالد عباس ڈار ،عمران مہر ،سی سی او سندس فاونڈیشن عبدالستار ،عبداللہ ملک ایڈووکیٹ ، کاشف سمیت عزیز او اقارب  نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں:کوٹ ادو میں کرنٹ لگنے سے ایک ہی خاندان کے 3 افراد جاں بحق
کوزہ گردُنیاسے اُٹھ بھی جائے تو اس کا فن اس کے ڈھالے ہوئے کوزوں کی شکل میں اسے یادوں سے معدوم نہیں ہونے دیتا،یہ بھی سچ ہے کہ دوام کوزہ گر کی طرح کوزے کوبھی نہیں لیکن کوزہ جب تک سلامت رہتا ہے اپنے خالق کے”دستِ چابک“ کی زندہ گواہی بنارہتاہے،مٹی سے کھیلنے والے کوزہ گر کی طرح لفظوں سے کھیلنے والے کوزہ گر بھی ہوتے ہیں اورالفاظ کے ایسے ہی ایک کوزہ گرکا نام منّوبھائی تھاکہ معجزہ نماالفاظ سے تخلیق پانے والے چلتے پھرتے ناچتے گاتے زندہ وتابندہ کردار منّوبھائی کے ہاتھوں ڈھلتے کوزے ہی تو تھے جن میں ”سوناچاندی“ کے کرداربھی شامل ہیں،منّو بھائی کے تخلیق کردہ”سونا چاندی“ کے یہ دونوں کردار اس قدر جاندار تھے کہ وہ اسے کرنیوالے فنکاروں حامد رانا اورشیباحسن کی شناخت اور پہچان بن گئے اوردونوں فنکار آج تک اس کے سحرسے نہیں نکل سکے اوریہ دیکھنے والوں کی سائیکی کاحصّہ بن چکے ہیں،یہ ڈرامہ 1982ء میں نشرہوااورلوگ آج بھی حامدرانااورشیباحسن کو حقیقی ناموں کی بجائے سوناچاندی کے ناموں سے ہی یادکرتے ہیں جس پردونوں فنکارفخر بھی کرتے ہیں۔