گٹر کا ڈھکن چرانے پر ایک سے تین سال تک قید کی سزا ہوگی

Feb 22, 2026 | 18:49:PM
 گٹر کا ڈھکن چرانے پر ایک سے تین سال تک قید کی سزا ہوگی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(درنایاب) پنجاب میں گٹر اور سیوریج لائن کے مین ہول، سٹریٹ لائٹ اور  دوسری پبلک سروس  تنصیبات کو نقصان پہنچانے پر قید  کی سزا ہو گی، جرمانہ بھی بھرنا پرے گا۔

 پنجاب کی حکومت نے آج پنجاب پبلک یوٹیلٹیز انفراسٹرکچر پروٹیکشن آرڈیننس2026منظور کر لیا۔

سرکاری تنصیبات کو نقصان پہنچانے پر قید کی سزا اور بھاری جرمانے ادا کرنا ہوں گے۔

اس آرڈیننس کے ذریعہ گٹر اور سیریج لائن کے مین ہول کے ڈھکن سے متعلق قوانین کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا ہے۔

وزیرالی  کی ہدایت پر گٹروں کے ڈھکن چرانے میں ملوث مافیا اور گینگز کی سرکوبی کے لیے قوانین بنائے گئے ہیں۔

سرکاری تنصیبات میں مین ہول کور، سٹریٹ لائٹس، حفاظتی باڑ اور دیگر تنصیبات شامل ہیں۔

سرکاری تنصیبات کی چوری پر 1 سے 3 سال قید 2 لاکھ سے 30 لاکھ تک جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔

سرکاری تنصیبات کو  اتارنے یا ان  تنصیبات کو چرا کر ان کی خرید و فروخت کرنے پر 1 سے3سال تک قید، 5 لاکھ سے 30 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو گا۔

سرکاری تنصیبات کو نقصان پہنچانے پر 3 ماہ سے 1 سال تک قید اور 50 ہزار سے 2 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو گا۔

سرکاری تنصیبات کی خریدو فروخت میں ملوث سکریپ ڈیلر و ری رولنگ پلانٹس کے لیے بھی سخت سزائیں ہوں گی۔

3 سال تک قید، 10 لاکھ سے 1 کروڑ روپے تک جرمانہ ہو سکے گا۔

جرم دہرانے پر قید 3 سے 6 سال،جرمانہ 3 لاکھ سے 1 کروڑ تک ہوگا۔

جانی نقصان کا باعث بننے کی صورت میں پاکستان پینل کوڈ کے تحت قوانین کا اطلاق ہو گا۔

محکمہ ہاؤسنگ پنجاب کی خصوصی ٹیم نے قانونی فریم ورک ترتیب دیا۔

سرکاری تنصیبات کی غیر قانونی خریدو فروخت میں ملوث مافیا سرگرم پایا گیا ہے۔

عوامی سرکاری تنصیبات کو نقصان پہنچانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔