’’رام رام رام‘‘55 دلہنوں کی زندگی پہلی رات تباہ کرنیوالا ’’چور جیا رام‘‘
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)بھارت کی ریاست راجستھان کے ریگستانی علاقوں میں کئی ایسی لوک کہانیاں ہیں جو بہادری اور محبت کی مثالیں پیش کرتی ہیں، لیکن اسی مٹی میں ایک ایسی کالی کہانی بھی دفن ہے، جسے سن کر آج بھی سرحدی علاقوں کی خواتین کانپ اٹھتی ہیں۔ یہ کہانی ہے جیارام کی، جسے پولیس ریکارڈ میں ایک شاطر چور مانا گیا، لیکن سماج کی نظر میں وہ ایسا “جمائی راجا” تھا جو سہاگ رات منا کر صبح غائب ہو جاتا تھا۔ لوگ اسے ’’کنوارا جمائی راجا‘‘کے نام سے پکارتے تھے۔ جیارام کا جرم کرنے کا طریقہ اتنا بھیانک اور نفسیاتی تھا کہ اس نے سسپنس فلموں کے ولنوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تھا۔
بھارت کی بڑی اردو ویب سائٹ کی رپورٹ کےمطابق جیارام راجستھان کے علاقے باڑمیر اور آس پاس کے ریتیلے علاقوں کے ان دور دراز اور تنہا گھروں کو نشانہ بناتا تھا، جہاں تازہ تازہ خوشیوں کی شہنائیاں بجی ہوں۔ اس کے نشانے پر وہ گھر ہوتے تھے جہاں کی بیٹی کی نئی نئی شادی ہوئی ہو اور وہ پہلی بار اپنے میکے آئی ہو۔ جیارام دن کی روشنی میں ریکی کرتا اور یہ یقینی بناتا کہ گھر کے مرد افراد کسی کام سے باہر گئے ہوں۔ اندھیرا ہوتے ہی وہ اس گھر میں “جمائی راجا” داماد بن کر داخل ہوتا۔ اس دور میں دیہات میں بجلی کی کمی اور گھونگھٹ رواج کے باعث چہروں کی شناخت کرنا مشکل تھا۔ گھر کی بوڑھی عورتیں اور دیگر افراد اسے اصلی داماد سمجھ کر اس کی خاطر مدارات میں جٹ جاتے۔ کسی کو اندازہ بھی نہیں ہوتا تھا کہ مہمان نوازی سے لطف اٹھانے والا یہ شخص دراصل ایک درندہ ہے۔ جیارام کا اصل کھیل رات کے سناٹے میں شروع ہوتا تھا۔ وہ پورے اعتماد کے ساتھ نئی دلہن کے کمرے میں پہنچ جاتا۔ لوک لاج اور ثقافتی جھجک کے باعث خاندان کا کوئی فرد اس پر شک نہیں کرتا تھا۔ وہ کمرے میں موجود نئی نویلی دلہن کے ساتھ رات گزارتا۔ جیسے ہی دلہن اور گھر کے دیگر لوگ گہری نیند میں سو جاتے، جیارام اپنا اصل رنگ دکھاتا۔ جیارام دلہن کے جسم سے سونے چاندی کے تمام زیورات بڑی صفائی سے اتار لیتا اور گھر کی تجوری صاف کر کے رفوچکر ہو جاتا۔ صبح جب سورج کی پہلی کرن کے ساتھ خاندان کی نیند کھلتی، تب تک ’’جماہی راجا‘‘ کوسوں دور جا چکا ہوتا تھا۔ پیچھے ایک لٹا ہوا گھر،شرمسار رشتے اور صدمے میں ڈوبی ایک معصوم دلہن رہ جاتی۔
بھارتی ریاست راجستھان کی پولیس کے ریکارڈ کے مطابق جیارام کے خلاف چوری، غیر مجاز داخلے اور چھیڑ چھاڑ کے کل 17 مقدمات درج تھے۔ لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ ہولناک تھی۔ جرائم کی دنیا کے جاننے والوں اور اس دور کے لوگوں کا ماننا ہے کہ متاثرہ خواتین اور خاندانوں کی تعداد 55 سے بھی زیادہ تھی۔ دراصل اس دور کے دیہاتی سماج میں بدنامی اور لوک لاج کا خوف اتنا گہرا تھا کہ کئی خاندانوں نے پولیس کے پاس جا کر رپورٹ درج کرانا تو دور، اس بات کا ذکر کسی پڑوسی سے بھی نہیں کیا۔ کئی دلہنوں نے تو اپنی پوری زندگی یہ راز سینے میں دبا کر ہی گزار دی اور کئی دلہنیں راز ساتھ لئے بھگوان کے پاس چلی گئیں۔
جیارام کی مجرمانہ زندگی کا راز سال 1988 میں کھلا، جب چوہٹن تھانے میں اس کے خلاف پہلی بار گھر میں گھسنے کا مقدمہ درج ہوا۔ اس کے بعد 1990 سے 1996 کے درمیان اس نے سندھری، سمدڑی، دھوریمنّا اور چوہٹن علاقوں میں وارداتوں کی لائینں لگا دیں۔ سال 1994 میں پولیس نے اسے باضابطہ طور پر ’’ہسٹری شیٹر‘‘ قرار دے دیا۔ وہ بار بار جیل جاتا اور باہر آ کر پھر وہی گھنونا کام شروع کر دیتا۔ سال 2003 تک وہ پولیس کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا رہا۔برسوں تک جرائم کی دلدل میں دھنسا رہنے اور جیل کی سلاخوں کے پیچھے زندگی گزارنے کے باعث جیارام کا جسم اندر سے کھوکھلا ہو چکا تھا۔ وہ پھیپھڑوں کی ایک سنگین بیماری کی زد میں آ گیا۔ بالآخر سال 2016 میں علاج کے دوران اس شاطر مجرم کی موت ہو گئی۔ جیارام تو مر گیا، لیکن اس کی چھوڑی ہوئی سیاہ پرچھائیں آج بھی راجستھان کے ان ٹیلوں میں محسوس کی جاتی ہیں، جہاں لوگ رات کو سونے سے پہلے آج بھی بار بار اپنی کھڑکیوں اور دروازوں کو ٹٹول کر دیکھتے ہیں کہ کہیں جیارام تو نہیں گھر میں داخل ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پلان فیل ۔۔محبوبہ سے بنی بیوی اور پھر جاسوس،شک نے آخر قاتل بنا دیا