میر رضا جوڈیشل کمیشن میں علی شاز کا بیان ریکارڈ

Sep 21, 2026 | 14:25:PM
میر رضا جوڈیشل کمیشن میں علی شاز کا بیان ریکارڈ
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (شوکت کورائی )میر رضا جوڈیشل کمیشن کا اجلاس جاری ہے، جہاں علی شاز نے اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کمیشن کو بتایا کہ میر رضا نے ان سے 25 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی درخواست کی تھی، جس پر 5 لاکھ روپے منافع کی پیشکش کی گئی تھی۔

کمیشن کے استفسار پر علی شاز نے بتایا کہ انہیں 8 دسمبر 2025 کو واٹس ایپ پر ملاقات کے لیے پیغام موصول ہوا تھا۔ ان کے مطابق اسی رات، 9 دسمبر کی رات تقریباً 3 بجے میر رضا ان کے دفتر آئے۔

علی شاز کے مطابق میر رضا نے خام مال کی خریداری کے لیے 25 لاکھ روپے سرمایہ کاری کرنے کی درخواست کی اور 25 لاکھ روپے کے عوض 5 لاکھ روپے منافع کی پیشکش کی، ان کے بقول سیکیورٹی کے طور پر 10،10 لاکھ روپے کے تین چیکس دینے کی بات بھی کی گئی۔

علی شاز نے کمیشن کو بتایا کہ انہوں نے اگلے روز پیغام کے ذریعے سرمایہ کاری کی پیشکش مسترد کردی۔ ان کے مطابق اس کے بعد میر رضا کی جانب سے ایک اور پیغام اور متعدد کالز موصول ہوئیں، تاہم انہوں نے کالز وصول نہیں کیں۔

 یہ بھی پڑھیں:200 یونٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والوں کیلئے اہم خبر !

کمیشن نے علی شاز سے میر رضا سے تعلق کے بارے میں بھی سوالات کیے۔ علی شاز نے بتایا کہ وہ میر رضا کو 2016 سے 2018 کے دوران پبلک اسپیکنگ ایونٹس کے ذریعے جانتے تھے اور چند مرتبہ ان سے دیگر مواقع پر بھی ملاقات ہوئی۔

علی شاز نے بتایا کہ ان کی ایک آئی ٹی کمپنی ہے جبکہ وہ طویل مدت کے لیے اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ماضی میں ان کا ایک ریسٹورنٹ بھی تھا اور حالیہ دنوں میں انہوں نے کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری نہیں کی۔

دورانِ سماعت کمیشن نے علی شاز سے پولیس سے رابطے کے بارے میں بھی سوالات کیے۔ علی شاز نے بتایا کہ 8 یا 9 اگست کو ان کی اے ایس پی ندا سے ملاقات ہوئی تھی۔ ان کے مطابق ان کے بھائی پنجاب پولیس میں ہیں اور اے ایس پی ندا ان کے بھائی کے ساتھ شیخوپورہ میں زیرِ تربیت رہ چکی تھیں۔

علی شاز کے مطابق میر رضا کے قتل کی اطلاع انہوں نے اپنے بھائی کو دی تھی، جس کے بعد بھائی نے انہیں اے ایس پی ندا سے بات کرنے کا مشورہ دیا۔

مزید پڑھیں:کل سے تعلیمی ادارے بند

کمیشن نے اس معاملے پر سوال اٹھایا کہ جب علی شاز نہ گواہ تھے اور نہ ملزم، تو انہیں پولیس افسر سے رابطہ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی،علی شاز نے بتایا کہ انہوں نے اے ایس پی ندا کو ایک آڈیو بھی شیئر کی تھی۔

دورانِ سماعت جبران ناصر نے نشاندہی کی کہ مذکورہ آڈیو 6 اگست سے میڈیا پر چل رہی تھی، جبکہ علی شاز نے کہا کہ انہوں نے آڈیو 8 اگست کو اے ایس پی ندا کو شیئر کی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ممکن ہے ان کی ملاقات اس سے پہلے ہوئی ہو، تاہم ان کے پاس اے ایس پی ندا سے گفتگو کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔

کمیشن نے آڈیو سے متعلق بھی علی شاز سے سوالات کیے اور معاملے پر مزید وضاحت طلب کی۔ اجلاس میں کمیشن کی جانب سے مزید وقت درکار ہونے کا بھی عندیہ دیا گیا۔